پراجکٹ کی قیمتوں میں اضافہ ، حکومت کے فیصلہ کے منفی اثرات ، بے روزگاری بڑھنے کی توقع
حیدرآباد۔29۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ایل ۔نینو کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے تعمیراتی پراجکٹس کے لئے نئے بورویلس کی تعمیر پر یکم نومبر سے مکمل امتناع عائد کئے جانے سے پراجکٹ کی قیمتوں میں 2تا3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے۔ بلڈرس اور ڈیولپرس جو کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے نتیجہ میں تشویش کا شکار ہیں ان کا کہناہے کہ حکومت نے تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے نئے بورویلس کی کھدوائی پر امتناع عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احکامات تو جاری کردیئے ہیں لیکن اس کے منفی اثرات کا جائزہ لئے بغیر کئے گئے اس فیصلہ کے اثرات نہ صرف ترقیاتی کاموں پر مرتب ہوں گے بلکہ ریاست میں بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا خطرہ ہے۔ حکومت نے ایل۔نینو کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر جو احکامات جاری کئے ہیں ان کے مطابق کسی بھی پراجکٹ کی تعمیر کے لئے نئے بورویلس کی کھدوائی پر مکمل امتناع عائد کردیاگیا ہے اور تعمیری سرگرمیوں کے لئے آلودہ پانی کو جو صاف کیا جا تا ہے اس کے استعمال کی تاکید کی گئی ہے۔ بلڈرس اور ڈیولپرس کا کہناہے کہ حکومت کے اس فیصلہ سے کئی کنسٹرکشن پراجکٹس کو صا ف کئے گئے پانی کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ان کے قریب موجود STP سے پانی کا حصول اور اس کے تعمیری پراجکٹ تک پہنچانے کے معاملہ میں پیش آنے والی دشواریوں کے نتیجہ میں پراجکٹ کی قیمت میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح جن پراجکٹس کے لئے منظوری حاصل کی جاچکی ہے اگر انہیں وقت پر شروع اور مکمل کرنے میں ناکامی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں بلڈرس اور ڈیولپرس کو مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اس کے علاوہ پراجکٹس پر خدمات انجام دینے والے تعمیری مزدوروں کو کام نہ ملنے کے نتیجہ میں انہیں بھی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ بے روزگاری کا شکار ہوسکتے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ اگر آئندہ 8تا10ماہ کے لئے بھی ان قوانین پر سختی سے عمل آوری کی جاتی ہے اور برقی سربراہی کو بھی محدود کیا جاتا ہے تو ا س کے سنگین اثرات کنسٹرکشن صنعت پر مرتب ہوں گے اور ان اثرات سے ریاست کو باہر آنے کے لئے کئی سال لگ سکتے ہیں۔ڈیولپرس اور کنسٹرکشن سے جڑے افراد جو مشکل حالات سے گذرنے والے ہیں ان کے ساتھ ساتھ بورویلس کی کھدوائی کرنے والوں میں بھی اس صورتحال سے تشویش پائی جانے لگی ہے اور ان کا کہناہے کہ معمول کی رہائشی بورویلس کی تعمیر کے لئے انہیں اتنا معاوضہ نہیں ملتا جتنا معاوضہ انہیں تعمیراتی پراجکٹس کے بورویلس کی تعمیر سے حاصل ہوتا ہے اور ایک بورویل کی کھدوائی اور تعمیرکے دوران 8 افراد کو روزگار حاصل ہوتا ہے جبکہ بورویل کی تنصیب اور دیگر امور کے لئے 5تا6افراد درکار ہوتے ہیں اس طرح 12تا14 افراد کو ایک بورویل کی کھدوائی سے روزگار حاصل ہوتا ہے ۔ بورویل کی کھدوائی پر عائد کی جانے والی پابندی کے بعد ان افراد کے بھی روزگار سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔3/m/b