سرکاری دفاتر میں صد فیصد صاف کیا ہوا پانی استعمال کریں، اجلاس میں چیف منسٹر کے احکامات
حیدرآباد۔ 28 اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست تلنگانہ میں پینے کے پانی کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) کے پانی کے موثر استعمال کے لئے سخت احکامات جاری کئے۔ آج حیدرآباد کے (MCRHRD) میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس طلب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، پینے کے پانی، ایس ٹی پیز اور ٹرٹیڈ واٹر پر غور و خوص کیا۔ اس اجلاس میں چیف سکریٹری سنجے جاجو کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر نے دوٹوک انداز میں ہدایت دی کہ ریاست میں کسی بھی حالت میں پینے کے پانی کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آنا چاہئے۔ پانی کی سپلائی کی مسلسل نگرانی کی جائے اور عہدیدار کسی بھی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ اس طرح کی غلطیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حکم دیا کہ تمام سرکاری دفاتر میں دیگر ضروریات کے لئے صد فیصد ٹرٹیڈ (صاف شدہ) پانی کا استعمال کیا جائے اور اسے لازمی قرار دیا جائے۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں آرٹیفیشل انٹلی جنس (AI) ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ ہر پلانٹ کے قریب ایک اسپیشل آفیسر مقرر کرنے اور ان پلانٹس کو کمانڈ کنٹرول سنٹر سے مربوط کرکے حیڈرا کے ذریعہ مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آؤٹر رنگ روڈ کے ساتھ دیگر علاقوں میں سڑکوں کی صفائی اور لینڈ اسکیپنگ کے لئے صرف ٹریٹ شدہ پانی استعمال کیا جائے۔ اس پانی کو سکریٹریٹ، چیف منسٹر آفس کے (Lowns) پبلک پارکس، محکمہ ریلوے، میٹرو ریل اور یہاں تک کہ ڈیٹا سنٹرس کو بھی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ٹرٹیڈ واٹر ٹینکرس کو ٹریک کرنے کا نظام بنایا جائے۔ اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے۔ عمارتوں کے نئے اجازت ناموں میں بھی ٹرٹیڈ پانی کے استعمال کا اصول نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے علاوہ پلانٹس کو سولار انرجی پر چلانے کے امکانات کا جائزہ لینے اور خانگی ایس ٹی پیز کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حکم دیا ہے کہ یکم نومبر سے ڈسمبر تک ان تمام احکامات پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنایا جائے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اقدامات کئے جائیں۔ 2؍F