تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کو نئی مشکل

   

تعلیم یافتہ محنتی بے روزگار نوجوانوں کا روزگار ختم ہونے کا امکان ، ایلوپلیٹ رکھنے کی شرط پر غور
حیدرآباد۔7۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کے لئے نئی مشکل پیدا ہونے جا رہی ہے۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان جن کی اپنی بائیک موجود ہے وہ اپنے فاضل وقت میں OLA’Rapido’یاUBER چلاتے ہوئے آمدنی حاصل کررہے تھے وہ اب اپنی خانگی بائیک پر یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے آمدنی حاصل نہیں کرپائیں گے کیونکہ حکومت نے ’’بائیک ٹیکسی ‘‘ میں محض ان بائیکس یا گاڑیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس ’’ٹیکسی پلیٹ‘‘ موجود ہے یعنی جو موٹر سیکل یا بائیک ’’یلو پلیٹ‘‘ رکھتے ہیں ان گاڑیوں کو ہی مذکورہ ایپ پر رجسٹر کروایا جاسکتا ہے اور اپنے فاضل اوقات یا طویل مسافت کے دوران ان خدمات کی انجام دہی کے ذریعہ معمولی آمدنی یا اپنے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے بائیک ٹیکسی چلانے والے نوجوانوں کو اب مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کی جانے والی منصوبہ بندی میں اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ’بائیک ٹیکسی ‘ چلانے والوں کی بہ آسانی نشاندہی ہوسکے۔ بتایاجاتاہے کہ موٹر سیکل ‘ یا بائیک کے لئے ’’یلو پلیٹ‘‘ حاصل کرنے اور اسے از سر نو رجسٹریشن کروانے کے لئے فی موٹر سیکل 3000 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔بتایا جاتاہے کہ اس کے علاوہ ’یلو پلیٹ‘ بائیک ٹیکسی سے سہ ماہی کمرشیل ٹیکس‘ سہ ماہی گرین ٹیکس‘ فٹنس کی جانچ کے سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کے علاوہ دیگر فیس وصول کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے علاوہ ازیں انہیں پرمٹ فیس کے طور پر علحدہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس منصوبہ بندی کے بعد دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں چلائی جانے والی زائد از 18 ہزار بائیک ٹیکسی سڑکوں سے غائب ہوجائیں گی کیونکہ بیشتر نوجوان مستقل ریاپیڈو ‘ اولا یا اوبیر کے ساتھ کام نہیں کرتے بلکہ اپنی ملازمت کے اوقات کے بعد اپنی گاڑی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی آمدنی و اخراجات کے لئے اس پیشہ سے وابستہ ہیں لیکن اگر ان کی ’بائیک ٹیکسی ‘ کو ’زرد پلیٹ‘ لگائی جاتی ہے اور ان سے اضافی فیس کے علاوہ متعدد ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں تو وہ نوجوان جو محض اضافی آمدنی یا بحالت مجبوری ان خدمات سے وابستہ ہوتے ہوئے اپنے اخراجات کی پابجائی کررہے تھے وہ اس شعبہ سے غائب ہوجائیں گے۔3/m/b