تلنگانہ میں برقی شرحوں میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ میں ٹی آرا یس حکومت نے برقی شرحوں میںاضافہ کرتے ہوئے عوام پر مزید بوجھ عائد کردیا ہے ۔ ملک میں عوام پر مرکزی حکومت کی جانب سے کئی طرح کے محاصل عائد کرتے ہوئے پہلے ہی سے بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ گذشتہ دو دن میں دو مرتبہ پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا تھا ۔ انتخابات کے بعد کے ماحول میں بی جے پی کو عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کی کوئی فکر لاحق نہیں تھی ۔ بی جے پی پانچ کے منجملہ چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جیت چکی ہے ۔ مستقبل میں فوری طور پر کوئی اور ریاست ایسی نہیں ہے جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی حکومت نے پٹرولیم اشیا اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر بوجھ میںاضافہ کا سلسلہ شروع کردیا ۔ ابھی عوام مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کئے جانے والے بوجھ کو پوری طرح سے سمجھ بھی نہیں پائے تھے کہ تلنگانہ کی کے سی آر حکومت نے نیا کرنٹ شاک دیدیا ۔ برقی کی شرحوں میں فی یونٹ پچاس پیسے گھریلو صارفین کیلئے اور فی یونٹ ایک روپیہ تجارتی صارفین کیلئے اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ۔ تلنگانہ میں ویسے تو کچھ عرصہ سے یہ تیاریاں کی جا رہی تھیںکہ برقی شرحوں میں اضافہ کیا جائے ۔ اس کیلئے ڈسکامس کو نقصانات کا عذر پیش کیا جا رہا تھا ۔ ڈسکامس کے نقصانات کی پابجائی کیلئے عوام پر بوجھ عائد کردیا گیا۔ ٹی آر ایس کی حکومت خود کو عوام دوست اور غریب عوام کیلئے فلاح و بہبود کے اقدامات کرنے والی حکومت قرار دیتی ہے لیکن عوام پر بوجھ عائد کرنے کے معاملے میں وہ بھی مرکز کی نریندر مودی حکومت سے پیچھے نہیں ہے ۔ جس طرح مودی حکومت تیل کمپنیوں کو نقصانات کا بہانہ کرتے ہوئے قیمتیں بڑھا رہی ہے اسی طرح کے سی ار حکومت نے بھی ڈسکامس کو بھاری نقصانات کا بہانہ کرتے ہوئے برقی شرحوں میں اضآفہ کا اعلان کردیا ہے ۔ کچھ دن قبل آر ٹی سی کو بھاری نقصانات کا بہانہ کرتے ہوئے بسوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا ۔ اس طرح ٹی آر ایس بھی عوام پر بوجھ عائد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہی ہے ۔
ریاست میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ٹی آر ایس کے تقریبا تمام قائدین اور وزراء کی جانب سے برقی شعبہ کے تعلق سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد برقی کے معاملے میں تلنگانہ کو خود مکتفی بنادیا گیا ہے ۔ برقی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ریاست میں تیار ہونے والی فاضل برقی کو دوسری ریاستوں کو فروخت بھی کیا جا رہا ہے ۔ ایسے میں عوام پر بوجھ عائد کرنے کا فیصلہ ناقابل فہم ہے ۔ جب ریاست میں فاضل برقی پیدا ہو رہی ہے اور دوسری ریاستوں کو فروخت کیا جا رہا ہے تو اس کے نفع کے باوجود ڈسکامس کو نقصان کس طرح ہو رہا ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں عوام سے ہمدردانہ رویہ رکھنے کی ضرورت تھی ۔ اگر کچھ نقصانات ہیں بھی تو فاضل برقی کی فروخت سے ان کی پابجائی کی جاسکتی تھی ۔ ریاست کے عوام پر پہلے ہی سے کئی محاصل عائد ہیں۔ پٹرولیم اشیا نے الگ قیامت ڈھائی ہوئی ہے ۔ جی ایس ٹی کے نتیجہ میں کئی اشیا مہنگی ہوگئی ہے ۔ ادویات اور ترکاریوں کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ خوردنی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ اس پر بلیک مارکٹنگ کے ذریعہ الگ بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ ساری صورتحال کو جھیلنے والے عوام پر اب برقی شرحوں کے اضافہ کا بوجھ عائد کرنا عوام کے ساتھ مذاق سے کم نہیں ہے ۔ چندر شیکھر راؤ حکومت کا یہ فیصلہ عوام کے حق میں نہیں کہا جاسکتا بلکہ اس کے نتیجہ میں عوام پر کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کے اندیشے ضرور لاحق ہیں۔
حکومت کی جانب سے ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ ترقی کے ثمرات عوام کو پہونچانے اور انہیں مہنگائی اور دیگر مشکلات سے راحت فراہم کرنے کی بجائے ان پر بوجھ عائد کرنا درست نہیں ہوسکتا ۔ اگر ڈسکامس کو واقعی نقصان کا سامنا ہے تو پھر برقی شعبہ کے تعلق سے اور ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کے دعووں کی جانچ کرنی پڑے گی ۔ ایک طرف ٹی آر ایس پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تو دوسری طرف خود برقی شرحوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ اس طرح وہ اپنے فیصلے سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حکومت کا یہ ریاست کے عوام سے بھونڈا مذاق ہے ۔