آئندہ چناؤ میں کانگریس کی کامیابی یقینی، دوسری پوزیشن کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی میں مقابلہ، کرناٹک وقف بورڈ کا ریموٹ بی جے پی کے ہاتھ میں
حیدرآباد۔/16 مئی، ( سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی میڈیا ڈپارٹمنٹ صدرنشین پون کھیرا نے تلنگانہ میں بی آر ایس سے انتخابی مفاہمت کے امکانات کو مسترد کردیا۔ حیدرآباد میں آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے پون کھیرا نے کہا کہ آل انڈیا کانگریس کے فیصلہ کے مطابق تلنگانہ میں کانگریس تنہا مقابلہ کریگی۔ انہوں نے کہا کہ بعض ریاستوں میں کانگریس کا علاقائی جماعتوں سے مقابلہ ہے۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی اور تلنگانہ میں بی آر ایس سے مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کانگریس تلنگانہ میں مستحکم ہے اور انتخابات میں پارٹی کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران تلنگانہ میں راہول گاندھی نے جن عوامی مسائل کی نشاندہی کی انہیں انتخابی منشور میں شامل کیا جائیگا اور کانگریس قائدین متحدہ مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نئی توانائی کے ساتھ دکھائی دے گی۔ مغربی بنگال سے متعلق سوال پر پون کھیرا نے کہا کہ حالیہ ضمنی چناؤ میں 51 سال بعد کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ مقامی کانگریسی قیادت سے مشاورت کے بعد ترنمول سے اتحاد کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔ کرناٹک کے وقف بورڈ صدرنشین کی جانب سے مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر اور 4 مسلم وزراء کی شمولیت کے مطالبہ پر پون کھیرا نے کہا کہ صدرنشین وقف بورڈ شفیع سعدی بی جے پی کے آدمی ہیں۔ بی جے پی نے انہیں وقف بورڈ کا صدرنشین مقرر کیا ہے۔ جس وقت بی جے پی برسراقتدار تھی انہوں نے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا۔ پون کھیرا نے کہا کہ شفیع سعدی کس کے ریموٹ کنٹرول پر کام کررہے ہیں اور کون انہیں چلا رہا ہے یہ ہر کوئی واقف ہے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کی 9 سالہ حکومت سے عوام عاجز آچکے ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی چناؤ میں دوسرے مقام کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی میں مقابلہ ہوگا جبکہ کانگریس نمبر ون پوزیشن پر رہے گی۔کرناٹک کے نتائج کے بعد تلنگانہ کیڈر میں کافی جوش و خروش پیدا ہوچکا ہے۔ انتخابی منشور پر فیصلہ مقامی قیادت کرے گی۔ پون کھیرا کے مطابق ای وی ایم اور وی وی پیاٹ پر سیاسی جماعتوں کے شبہات برقرار ہیں۔ عوام کے شبہات کو دور کرنا حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ وی وی پیاٹ اور ووٹنگ مشینوں کی گنتی میں فرق، ناکارہ مشینوں اور 10 تا 18 لاکھ مشینوں کا غائب ہونا کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ شرد پوار کی قیامگاہ پر 14 سیاسی پارٹیوں نے بیالٹ پیپر پر الیکشن کی تائید کی ہے ۔ بی آر ایس و بی جے پی قائدین کی شمولیت کے بارے میں سوال پر پون کھیرا نے کہا کہ ریاستی یونٹ اس پر فیصلہ کا اختیار رکھتا ہے۔ بجرنگ دل پر پابندی سے متعلق سوال پر پون کھیرا نے کہا کہ کانگریس نے پی ایف آئی اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے بشرطیکہ وہ نفرت پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث رہیں ۔ کانگریس دراصل سپریم کورٹ فیصلہ پر عمل کررہی ہے جس نے ریاستوں کو نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ کرناٹک میں جو بھی تنظیم نفرت پھیلانے کا کام کریگی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پون کھیرا نے بتایا کہ راجستھان میں چیف منسٹر عہدہ کیلئے ایک سے زائد اہل قائدین موجود ہیں اور سچن پائلٹ معاملہ میں انچارج کی رپورٹ پر فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس الیکشن سے قبل چیف منسٹر امیدوار کے اعلان کے حق میں نہیں ہے کیونکہ چیف منسٹر کا فیصلہ منتخب ارکان اسمبلی کرینگے۔ تلنگانہ کانگریس میں اختلافات کی تردید کرتے ہوئے پون کھیرا نے کہا کہ سیاست میں مسابقت صحتمند مقابلہ ہے اسے داخلی انتشار نہیں کہا جاسکتا ۔ تلنگانہ میں پرینکا گاندھی کے رول سے متعلق اے آئی سی سی ترجمان نے کہا کہ تقریباً 12 ریاستوں سے یہ مطالبہ آرہا ہے۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کو اختیار ہے کہ وہ پرینکا گاندھی کو کس ریاست کی ذمہ داری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مسائل کی بنیاد پر چناؤ کی قائل ہے اور چہروں کی بنیاد پر الیکشن کے حق میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندرون دو یوم کرناٹک میں چیف منسٹر کے نام کا اعلان کردیا جائیگا۔ پارٹی مبصرین نے ارکان اسمبلی سے بات چیت کے بعد ہائی کمان کو رپورٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کا انتخاب کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بی جے پی واضح کرے کہ اس نے کرناٹک میں قائد اپوزیشن کا انتخاب ابھی تک کیوں نہیں کیا۔ر