این ٹی آر کو خراج ادا کرنے میں مسابقت، تلگودیشم اور ٹی آر ایس میں مفاہمت ممکن
حیدرآباد۔/29 مئی، ( سیاست نیوز) آئندہ اسمبلی انتخابات میں تلگودیشم پارٹی کے ووٹ بینک پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کی نظریں ہیں۔ ریاست کی سیاسی صورتحال میں حالیہ تبدیلیوں اور کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے حکومت کی شدت سے مخالفت کے پیش نظر ٹی آر ایس نے تلنگانہ میں موجود این ٹی راما راؤ اور تلگودیشم کے حامیوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تلنگانہ میں آج بھی آندھرائی خاندانوں کی کثیر تعداد موجود ہے اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد آنجہانی این ٹی راما راؤ کے مداح ہیں۔ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کا عملاً صفایا ہوچکا ہے حالانکہ ہر ضلع میں اس کا کیڈر موجود ہے۔ موجودہ حالات میں تلگودیشم ووٹ بینک کو حاصل کرنے کیلئے این ٹی آر جینتی کے موقع پر ٹی آر ایس میں موجود تلگودیشم کے سابق قائدین کو استعمال کیا گیا۔ تلگودیشم قائدین سے زیادہ ٹی آر ایس کے وزراء اور عوامی نمائندوں نے این ٹی آر گھاٹ پہنچ کر آنجہانی قائد کو نہ صرف خراج پیش کیا بلکہ انہیں ’ بھارت رتن ‘ اعزاز کا مطالبہ کیا۔ سابق میں تلگودیشم سے وابستہ وزراء اور عوامی نمائندوں نے پہلی مرتبہ این ٹی آر کو خراج پیش کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلگودیشم اور این ٹی آر کے حامیوں کو راغب کرنے کیلئے حکمت عملی کے طور پر یہ اقدام کیا۔ دوسری طرف بی جے پی نے بھی ضلع واری سطح پر تلگودیشم کے قائدین سے ربط قائم کرنا شروع کیا ہے اور انہیں بی جے پی میں شمولیت کی ترغیب دی جارہی ہے۔ صدر قومی تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس اور تلگودیشم کے درمیان مفاہمت کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ر