تلنگانہ میں جرائم کی روک تھام کیلئے نشہ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ

   

خواتین کے ساتھ احتجاج کا اعلان ، کانگریس قائد وی ہنمنت راؤ کا بیان
حیدرآباد۔13۔ مئی (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد وی ہنمنت راؤ نے تلنگانہ میں نشہ بندی نافذ کرنے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ شراب کے عام ہوجانے سے جرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شراب نوشی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ جگہ جگہ شراب کی دکانیں اور بارس کے قیام کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو شراب کی فروخت سے آمدنی کی فکر ہے اور سرکاری خزانہ میں شراب کی فروخت سے قابل لحاظ رقم وصول ہورہی ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ ریاست میں قتل اور دیگر جرائم کے واقعات کی اہم وجہ شراب نوشی منظر عام پر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے قتل اور مظالم کے واقعات کے پس پردہ شراب نوشی اہم وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شراب کی دکانوں کو پرمٹ روم کے ذریعہ گاہکوں کو شراب سرو کرنے کی اجازت دی ہے جس کے نتیجہ میں ہر گلی کوچے میں شراب پینے کے بعد ہنگامہ آرائی دیکھی جارہی ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ نشہ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں، کانگریس پارٹی ان کی تائید کرے گی اور ریاست میں مکمل نشہ بندی کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تنظیموں کی جانب سے شراب کی دکانوں کے خلاف مہم کو حکومت نے نظر انداز کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ کو شراب کے اہم مرکز میں تبدیل کر دیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ راہول گاندھی اور ریونت ریڈی کو اس معاملہ میں غور کرتے ہوئے نشہ بندی کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے ۔ کانگریس برسر اقتدار آنے پر تلنگانہ میں نشہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نشہ بندی کے حق میں خواتین کے ساتھ مہم چلائیں گے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر سے اپیل کی کہ جرائم اور خاص طور پر خواتین کے خلاف مظالم کو روکنے کیلئے شراب کی دکانات میں کمی کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار حکومت نے نشہ بندی کے نفاذ کے ذریعہ جرائم پر قابو پایا ہے۔ ر