سرحدی اضلاع میں سی آر پی ایف، گرے ہانڈس اور کوبر اکی سخت تلاشی مہم
حیدرآباد۔نکسلائٹس کو تلنگانہ میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے سرحدی اضلاع میں سی آر پی ایف ‘ گرے ہاؤنڈس اور کوبرا کی جانب سے سخت تلاشی مہم کے ساتھ ساتھ نکسلائٹس کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھنے کے اقدامات بھی کئے جانے لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ریاست تلنگانہ کو نکسلائٹس سے پاک رکھنے کیلئے ان ایجنسیوں نے چھتیس گڑھ سرحد پر خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دنوں سرحدی ریاستوں میں 300 سے زائد ماؤسٹوں کی ریاست تلنگانہ میں داخلہ کی کوشش کے ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعدریاست میں سخت چوکسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں ماؤسٹوں کو داخل ہونے سے روکنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جانے لگے ہیں جن میں جنگلاتی علاقہ کے علاوہ ندیوں اور دیگر مقامات جہاں سے ماؤسٹوں کی حمل و نقل اور دراندازی کے امکانات ہیں ان پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے مطابق یہ آپریشن جاری ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ماؤسٹوں کی بڑی تعداد دنداکرانہ سے تلنگانہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کوشش کو ناکام بنانے کے علاوہ انہیں سکماضلع تک محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جاری کی جانے والی اطلاعات میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ ماؤسٹوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں ماؤسٹوں کو داخل ہونے سے روکنے کیلئے ایجنسی علاقو ںمیں تلاشی مہم میں شدت پیدا کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ماؤسٹ ریاست چھتیس گڑھ سے دمموگوڑم‘ چارلہ‘وینکٹا پورم اور واجیڈو کے ذریعہ تلنگانہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سی آر پی ایف‘ کوبرا کے علاوہ گرے ہاؤنڈس کی جانب سے ان علاقوں پر ڈرون کیمروں کے ذریعہ نظر رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان ڈرون کیمروں کی مدد سے ہی ان 300 ماؤسٹوں کی ریکارڈنگ موصول ہوئی تھی جو چھتیس گڑھ کی سرحد سے تلنگانہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ تمام سرحدی علاقوں میں ریاستی و مرکزی ایجنسیاں نظر رکھے ہوئے ہیں۔