جانا ریڈی، ہنمنت رائو، رینوکا چودھری کے نام زیر گشت، بی آر ایس سے سنتوش کمار یا روی چند کو دوبارہ موقع ملنے کی امید
حیدرآباد : 30 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لیے کانگریس میں کئی سینئر قائدین نے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ عام طور پر راجیہ سبھا کے لیے سینئر قائدین کو نامزد کرنے کی روایت رہی ہے لہٰذا پارٹی میں کئی ایسے سینئر قائدین موجود ہیں جنہوں نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور وہ چاہتے ہیں کہ ایوان بالا کے لیے انہیں منتخب کیا جائے۔ اسمبلی چنائو کے امیدواروں کے انتخاب کے موقع پر کانگریس ہائی کمان نے ٹکٹ سے محروم کئی قائدین کو راجیہ سبھا یا پھر کونسل کی رکنیت کی پیشکش کی تھی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول کی اجرائی کے فوری بعد سینئر قائدین کے جانا ریڈی، رینوکا چودھری، جی چناریڈی، مدھو یاشکی گوڑ، سمپت کمار، وی ہنمنت رائو، سروے ستیہ نارائنا، ومشی چند ریڈی اور دوسروں نے ہائی کمان سے نمائندگیوں کا آغاز کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض قائدین نے نئی دہلی کا رخ کرلیا تاکہ وہاں کانگریس ہائی کمان سے قربت رکھنے والے قائدین سے ملاقات کی جاسکے۔ کانگریس ہائی کمان نے راجیہ سبھا کے امیدواروں کے مسئلہ پر تاحال کسی مشاورت کا آغاز نہیں کیا ہے اور راہول گاندھی کے بھارت جوڑو نیائے یاترا میں مصروف ہونے کے باعث دہلی میں کے سی وینوگوپال کے علاوہ کوئی دستیاب نہیں جن سے نمائندگی کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ کونسل کی رکنیت سے لمحہ آخر میں محروم ادنکی دیاکر اور پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر جی نرنجن نے بھی راجیہ سبھا کے لیے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ دو نشستوں میں اگر ایک نشست سونیا گاندھی کو مختص کی جاتی ہے تو ایک نشست کے لیے سینئر قائدین میں سے انتخاب کرنا کانگریس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اپریل میں بی آر ایس کے 3 راجیہ سبھا ارکان کی میعاد ختم ہورہی ہے جن میں جے سنتوش کمار، وی روی چندر اور بی لنگیا یادو شامل ہیں۔ ایک نشست پر کامیابی کے لیے 31 ارکان اسمبلی کی تائید ضروری ہے اور 64 نشستوں کے ساتھ کانگریس بآسانی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی جبکہ تیسری نشست 39 نشستوں والی بی آر ایس کے لیے چھوڑدی جائے گی۔ بعض گوشوں میں کانگریس کی جانب سے تیسرے امیدوار کو میدان میں اتارنے کی پیش قیاسی کی ہے لیکن چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ فوری طور پر برسر اقتدار پارٹی میں انحراف کی مساعی نہیں کی جائے گی۔ اسی دوران بی آر ایس کی جانب سے میعاد کی تکمیل کرنے والے ارکان میں سے کسی ایک کو دوبارہ منتخب کرنے کا امکان ہے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے با اعتماد اور قریبی رشتہ دار جے سنتوش کمار اور وی روی چندر کے نام پارٹی میں زیر گشت ہیں۔ بی جے پی 8 اور مجلس 7 نشستوں کے لیے لوک سبھا چنائو میں حصہ نہیں لے سکتی کیوں کہ امیدوار کا نام تجویز کرنے کے لیے 10 ارکان کی تائید ضروری ہے۔ جیسے جیسے پرچہ نامزدگی کے ادخال کی تاریخ یعنی 8 فروری قریب آئے گی، کانگریس اور بی آر ایس کے امیدواروں کے مسئلہ پر منظر واضح ہوجائے گا۔ 1