تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کیلئے بجٹ نہیں

   

ریاست میں مالی بحران عروج پر ، اتم کمار ریڈی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کو مالیاتی بحران میں ڈھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست میں مالیاتی خسارہ 5 گنا بڑھ چکا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے نئی دہلی میں بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا میں وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بعض ریاستیں قرض کی حد کو عبور کرچکی ہیں۔ وزیر فینانس نے ریاستوں کے قرض اور واجبات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ 2014 ء میں تلنگانہ کا قرض 69 ہزار تھا۔ کے سی آر حکومت نے محض 8 برسوں میں قرض کو 312191 کروڑ تک پہنچا دیا ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق تلنگانہ کے واجبات 2015 ء میں 72658 کروڑ تھے جو 2022 ء میں بڑھ کر 312191 کروڑ ہوچکے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ کا قرض اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے قرض کو پیداواری مقاصد پر خرچ نہیں کیا۔ بھاری سود پر قرض حاصل کیا گیا تاکہ آبپاشی پراجکٹ پر خرچ کیا جائے لیکن کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ 15 ویں فینانس کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبپاشی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کے سی آر حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہیاور غلط اعداد و شمار کے ذریعہ گمراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی بحران کے نتیجہ میں حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور وظیفہ یابوں کے پنشن کی اجرائی سے قاصر ہیں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات جاری نہیں کئے گئے ۔ آروگیہ شری کے بقایہ جات اور سیلف ہیلپ گروپس کے قرض جاری نہیں کئے گئے۔ ر