چاول ، دال ، تیل ، شکر ، پیاز ، ادرک لہسن اور پکوان تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے کچن کا بجٹ متاثر
حیدرآباد ۔ 3 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں مہنگائی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں عام شہریوں اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے ۔ صبح کی چائے سے لے کر رات کے کھانے تک روزمرہ استعمال ہونے والی تمام اشیائے ضروریہ اور بنیادی غذائی اجزاء کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد کا بھاری اضافہ ہوگیا ہے ۔ بازاروں میں قیمتوں پر کنٹرول کرنے والے سرکاری محکموں کی عدم توجہ اور ذخیرہ اندوزوں کی من مانی کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کی خاندانی بجٹ کا شیرازہ بکھرچکا ہے ۔ بازار میں روزمرہ کی ضروری اشیاء کے تازہ ترین قیمتوں نے عوام کے ہوش اڑا دئیے ہیں ۔ معیاری چاول کی قیمتوں میں فی کنٹل 1000 روپئے کا اضافہ ہوچکا ہے جو چاول پہلے 45 سے 50 روپئے فی کلو ملتا تھا اب اس کی قیمت 70 روپئے فی کلو سے تجاوز کر گئی ہے ۔ چاول کے 26 کلو والے تھیلے پر 300 سے 400 روپئے کا راست مالی بوجھ بڑھ گیا ہے ۔ پہلے شکر 40 روپئے فی کلو فروخت ہورہی تھی ۔ اب وہ مارکٹ میں 60 سے 70 روپئے فی کلو تک پہونچ چکی ہے ۔ یہی نہیں تور دال ، اُڑد دال ، مونگ دال کی قیمتوں میں فی کلو 20 روپئے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے ۔ پکوان کے تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ سورج مکھی تیل جو پہلے 160 روپئے فی لیٹر سے کم قیمت میں دستیاب تھا اب 180 روپئے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے ۔ پیاز ، ادرک اور لہسن کی قیمتیں دگنی ہوچکی ہیں ۔ پیاز کی قیمت 20 روپئے سے بڑھ کر 60 روپئے فی کلو ہوگئی ہے ۔ جب کہ ادرک اور لہسن کے نرخ 150 روپئے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئے ہیں ۔ عوام کے مطابق صبح بیدار ہوتے ہی مہنگائی کے جھٹکے شروع ہوجاتے ہیں ۔ چائے پاوڈر ، دودھ ، شکر کی قیمتیں بڑھنے سے صبح کا ناشتہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ جب کہ دوپہر اور رات کے کھانے میں استعمال ہونے والے تیل ، دال ، پیاز ، ادرک لہسن کی قیمتوں نے کچن کے اخراجات کو دگنا کردیا ہے ۔ عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ سپلائی محکموں کی خاموشی اور عدم توجہی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فوری بلیک مارکیٹنگ روکنے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔۔ 2/m/b