تلنگانہ میں مسلمانوں کے مسائل اور حالات پر تجاویز و مشوروں کی طلبی

   

بی آر ایس حکومت کی کامیابیاں مسلم طبقہ تک پہنچانے کی درخواست ، کے ٹی آر کی پرگتی بھون میں مسلم دانشوروں ، اردو اخبارات کے ایڈیٹرس و دیگر سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کو بین الاقوامی طرز پر ترقی دینے میں انتھک کوشش کرنے والے ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ کسی بھی شہر کی ترقی کا راز شہر کے امن اور انفراسٹرکچر کی فراہمی پر منحصر ہوتا ہے اور ریاستی حکومت نے یہ کارنامہ کر دکھایا ۔ شہر و ریاست کی ترقی اور موجودہ صورتحال پر ریاستی وزیر نے آج مسلم دانشوروں سے پرگتی بھون میں ملاقات کی ۔ شہر کے مسلم تاجرین ، دانشوروں ، علمی ادبی ، سرمایہ دار شخصیتوں اور اردو اخبارات کے ایڈیٹرس سے آج ریاستی وزیر نے تفصیلی بات چیت کی اور دانشوروں سے درخواست کی کہ وہ حکومت کے کارناموں اور کامیابیوں کا اپنی کمیونٹی تک پیغام پہونچائیں ۔ مسلم سماج میں اہمیت کی حامل اور اثر انداز ہونے والی شخصیتوں سے کے ٹی آر نے مشورے بھی حاصل کئے اور بتایا کہ شہر حیدرآباد کو بین الاقوامی طرز کا شہر بنانے کے لیے سرمایہ داروں کو راغب کیا گیا ۔ بالخصوص بین الاقوامی سطح کے سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سہولیات فراہم کی گئیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں ریاستی حکومت نے درکار انفراسٹرکچر کو فراہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جس کا نتیجہ آج حیدرآباد کی بے مثال ترقی ہے ۔ ریاست کے قیام کے بعد ترقی کے متعلق منفی قیاس آرائیوں کا ازالہ کرنا بہت بڑا چیالنج تھا ۔ ریاست میں امن کو یقینی بنانے اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے پر حکومت نے توجہ دی اور بہترین ماحول فراہم کیا ۔ امن و امان کو یقینی بناتے ہوئے اس طرح کا ماحول پیدا کیا کہ سرمایہ دار خود بہ خود شہر کی طرف متوجہ ہوتے گئے ۔ کسی بھی سرمایہ دار کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حیدرآباد میں سرمایہ داری سے قبل ملک کے دیگر شہروں کا جائزہ لے ۔ ملک کے دیگر شہروں کے ماحول ، حالات اور حکومتوں کی دلچسپی کو دیکھنے اور غور کرنے کے بعد حیدرآباد پہونچے اور حیدرآباد آنے والے کسی بھی سرمایہ دار اور ملٹی نیشنل ادارے نے دوبارہ کسی اور شہر کی طرف توجہ دینے کو اہمیت نہیں دی ۔ بیرونی سرمایہ داروں کو شہر حیدرآباد کی جانب راغب کرنے میں حکومت کی جانب سے موثر اقدامات کئے گئے اور حکومت کی ماحول دوست سرمایہ دوست پالیسیوں کو بین الاقوامی سطح پر پہونچایا گیا ۔ بیرونی ممالک اجلاسوں اور بزنس سمٹ میں حکومت تلنگانہ کی پالیسیوں کو پیش کرتے ہوئے سرمایہ داروں کو راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی اور تلنگانہ کو ایک اہم مقام پر لایا گیا ۔ لیکن اب مزید ترقی اور مثالی اقدامات کے لیے عوام کا تعاون درکار ہے ۔ مسلمانوں کو بی آر ایس سے قریب کرنے اور مسلمانوں کی مدد کے لیے دانشوروں کی مدد اور مشورے ضروری ہوجاتے ہیں ۔ مسلم دانشوروں کے پرگتی بھون اجلاس میں ریاستی وزیر نے مسلم مسائل اور حالات پر دانشوروں سے مشورے طلب کئے اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ترقی میں امن و امان کا اہم رول ہے ۔ آج ریاست تلنگانہ پرامن اور ترقی پسند ریاست ہے ۔ فسادات اور مذہبی منافرت سے پاک ریاست بن کر ابھری ہے تو حکومت کا ان حالات میں بڑا رول رہا ہے ۔ سرکاری پالیسیوں اور سخت اقدامات نے امن کو برقرار رکھا ۔ مذہبی بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کی مثال آج پورے ملک میں تلنگانہ کے طور پر لی جانے لگی ہے ۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ اگر ریاست میں کانگریس دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو پھر ترقی رک جائے گی ۔ سب سے پہلے رئیل اسٹیٹ ٹھپ ہوجائے گا ۔ اراضیات کی قیمتوں میں کمی خرید و فروخت متاثر ہوگی اور امن و امان کا بھی بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ ریاست کی عوام بی آر ایس کے اقتدار میں فسادات اور مذہبی منافرت کو بھول چکے ہیں ۔ حق تلفی اور رسوائی اور ناانصافی کے لیے حیدرآباد میں کوئی جگہ نہیں رہی ۔ ریاستی وزیر نے حکومت کے کارناموں کو عوام تک پہونچانے اور ریاست کی ترقی کو عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے پیغام پہونچانے کی مسلم دانشوروں سے درخواست کی ۔ اس اجلاس میں مسلم دانشوروں نے بھی ریاستی وزیر کو اہم مشورے دئیے ۔ اجلاس میں شاہ عالم رسول خاں ( شاداں ) ، نواب برکت عالم خاں ، نواب احمد عالم خاں ، جناب اسماعیل علی خاں ، جناب تاروج احمد خاں ، جناب رونق یار خاں ، جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست ، جناب فیض خاں ( پائیگاہ ) ، حسنین صابری ، حامد صابری ، جناب شاہد علی خاں ، جناب عابد ( مخدوم برادرس ) ، جناب عبدالمجید ( پستہ ہاوز ) ، شاہی امام احسن الحمومی ، جناب مجاہد فاروقی ، محترمہ افسر جہاں ( ایڈوکیٹ ) ، جناب شیخ عبداللہ سہیل ، جناب قیوم انور ( ایڈیٹر ٹی نیوز اردو ) و دیگر موجود تھے ۔۔ ع