یکم مئی سے ٹیکہ مہم میں دشواریاں،مرکز سے مفت ٹیکہ کا مطالبہ ، ریاست میں آکسیجن کی صورتحال اطمینان بخش
حیدرآباد: وزیر صحت ای راجندر نے وضاحت کی ہے کہ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تحدیدات کے ذریعہ کورونا پر قابو پانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر صحت نے یکم مئی سے ریاست میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو ٹیکہ اندازی کے امکانات مسترد کردیا اور کہا کہ ویکسین کی قلت کے باعث ٹیکہ اندازی ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے ویکسین کے حصول کی صورت میں یکم مئی سے ٹیکہ اندازی شروع کی جائے گی جبکہ موجودہ صورتحال میں یہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کل 30 اپریل سے 19 اضلاع میں ڈیاگناسٹک ہب شروع کئے جارہے ہیں۔ ہوم آئسولیشن میں موجود افراد ضلع کے ڈیاگناسٹک سنٹر میں خون کے معائنے کراسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوم آئسولیشن میں موجود افراد کو ہر تین اور چار دن میں ایک مرتبہ اپنے خون کا معائنہ کرانا چاہئے ۔ وزیر صحت نے انتباہ دیا کہ ریاست میں آکسیجن اور ادویات زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں آندھراپردیش ، کرناٹک ، مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے مریضوں کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے سربراہ کی جانے والی ویکسین کے اعتبار سے ٹیکہ اندازی کی مہم جاری ہے ۔ حکومت آئندہ تین ماہ میں 3.5 کروڑ ٹیکہ اندازی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے زائد ٹیکے کی سربراہی کے علاوہ آکسیجن کے حصول کی مساعی کی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کورونا کی سنگین صورتحال کا اندازہ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور ریاستوں سے مرکز کا رویہ جانبدارانہ ہے۔ انہوں نے مرکزی قائدین کے علاوہ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین پر سخت تنقید کی اورکہا کہ حقائق جانے بغیر حکومت پر تنقید کی جارہی ہے ۔ بی جے پی قائدین غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے عوام میں الجھن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مرکز تمام معاملات کو اپنے اختیار میں رکھتے ہوئے ریاستوں پر تنقید کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بیان بازی کی جائے ۔ آکسیجن کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ آکسیجن کی کمی سے مریضوں کا فوت ہونا ملک کی توہین ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو حکومت پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ مرکز کو چاہئے کہ جنگی خطوط پر ریاستوں کو درکار آکسیجن سربراہ کرے۔ تلنگانہ میں 600 میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت سے مرکز کو آگاہ کیا گیا لیکن مرکز نے محض 306 میٹرک ٹن آکسیجن کی منظوری دی ۔ انہوں نے کہا کہ قریبی ریاستوں کے بجائے ہزاروں کیلو میٹر دور مقامات سے آکسیجن الاٹ کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں ریاست کو منتقلی میں وقت لگ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو مفت ویکسین فراہم کرے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہنگامی حالات میں کورونا ویکسین کی زائد خوراک تیارکرے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ویکسین کی قلت کی صورت میں صورتحال مزید بگڑ جائیگی۔ ریاست میں 18 سے 44 سال عمر کے افراد کیلئے 3.5 کروڑ ویکسین خوراک کی ضرورت ہے۔ مرکز کو چاہئے کہ ویکسین کی فراہمی کیلئے واضح پالیسی کا اعلان کرے۔ راجندر نے کہا کہ ریاستوں پر تنقید سے قبل مرکز کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریمیڈیسیور کم تعداد میں تیار کرکے زائد قیمت پر فروخت کی جارہی ہے ۔ مرکز کو چاہئے کہ اس طرح کی دواؤں کی تیاری میں اضا فہ کریں۔ بلاک مارکیٹنگ کو روکنا مرکز کی ذمہ داری ہے ۔ مرکز کو چاہئے کہ وہ ریمیڈیسیور اور اس طرح کی دیگر ادویات کی تیاری پر کنٹرول کرے۔ کورونا ٹسٹنگ کٹس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ مرکز نے ریاستوں کیلئے کیا کیا جو تنقید کرنے آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں 3.5 کروڑ خوراک فراہم کرنے کی صورت میں حکومت یکم مئی سے 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو ٹیکہ اندازی کا آغاز کرسکتی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ تلنگانہ میں کیسوں میں اضافہ کی اہم وجہ مہاراشٹرا ، کرناٹک ، آندھراپردیش اور چھتیس گڑھ سے بڑی تعداد میں عوام کی منتقلی ہے۔ تلنگانہ میں 18 سال سے زائد عمر کے نوجوانوں کی تعداد 1.7 کروڑ ہیں۔ انہیں کورونا کی دو خوراکیں دینے 3 کروڑ خوراک کی ضرورت پڑے گی ۔