تلنگانہ میں چکون گنیا ، ریاست اور مرکز کے اعداد و شمار میں فرق

   

مرکزی مملکتی وزیر انوپریا پٹیل کی پارلیمنٹ میں بیان کے بعد حکومت تلنگانہ کا ردعمل
حیدرآباد۔6۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں چکون گنیا کے مریضوں کی تعداد کے سلسلہ میں ریاست اور مرکز کے اعداد وشمار میں پائے جانے والے بھاری فرق کو دیکھتے ہوئے مرکز کے اعداد وشمار پر سوال اٹھائے جانے لگے ہیں جبکہ مرکزی مملکتی وزیر صحت محترمہ انوپریا پٹیل نے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار میں اس بات کادعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ میں سال 2025 کے دوران 1588چکون گنیا کے مریضوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ جنوری تاجون کے دوران پائے جانے والے مریضوں کی تعداد ہے ۔ سال گذشتہ اسی مدت میں یعنی جنوری تا جون 2024کے دوران تلنگانہ میں مجموعی اعتبار سے محض 170 چکون گنیا کے مریض پائے گئے تھے لیکن جاریہ سال اس میں 9گنا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی نگرانی میں چلائے جانے والے انٹگریٹڈ ہیلت انفارمیشن پلیٹ فارم پر فراہم کی جانے والی تفصیلات میں بھی 2025کے ابتدائی 6ماہ کے دوران تلنگانہ میں چکون گنیا کے مریضوں کی جو تعداد بتائی جا رہی ہے اس کے مطابق 1588 مریضوں کی اب تک نشاندہی کی جاچکی ہے لیکن ریاستی محکمہ صحت نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے ان اعداد و شمار کو غلط اور بے بنیاد قراردیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ میں سال 2025 کے ابتدائی 6ماہ کے دوران محض 240 چکون گنیا کے مریض پائے گئے ہیں جن کی نشاندہی کے ساتھ ان کے بہتر علاج کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کے علاوہ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔مرکزی حکومت اور حکومت تلنگانہ کے اعداد و شمار میں پائی جانے والی اس تفریق کے سلسلہ میںدریافت کرنے پر محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہناہے کہ وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ تلنگانہ کے اعداد و شمار مرکزی حکومت نے کہاں سے حاصل کئے ہیں اور کس بنیاد پر ان اعداد وشمار کو پارلیمنٹ میں پیش کیاگیا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت کے عہدیدار نے بتایا کہ ریاست اور مرکز کے اعداد وشمار میں اگر فرق آتا بھی ہے تو اتنے بڑے فرق کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔مرکزی مملکتی وزیر نے ایوان میں پیش کئے گئے اعداد وشمار کے ساتھ اس بات کی بھی توثیق کی ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں چکون گنیا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اور ان اقدامات میں مچھر کش ادوایات کے چھڑکاؤ کے لئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے علاوہ میڈیکل کٹس کی فراہمی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔3