نئی صنعتوں کے قیام میں دلچسپی کا بھی فقدان ۔ لوک سبھا میں مرکزی حکومت نے تفصیلی اعداد و شمار پیش کئے
حیدرآباد۔یکم۔اگسٹ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں چھوٹی اور متوسط صنعتوں کا بند ہونا معمول بنتا جا رہا ہے جبکہ MSME شعبہ ریاست وملک کی معاشی ترقی اور استحکام میں اہم کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ تلنگانہ میں ان صنعتوں کو بند کرنے میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے کیونکہ 2020 سے ان چھوٹی اورمتوسط صنعتوں کو بند کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کوئی نئی چھوٹی صنعت کے قیام میں دلچسپی نہیں دکھا رہا جو معیشت کیلئے مضر تصور کیا جا رہاہے۔ بتایا گیا کہ جولائی 2020 سے جولائی 2025 تک تلنگانہ میں جملہ 3099چھوٹی و متوسط صنعتوں کو بند کیا جاچکا ہے جن میں سال 2025اور 2026 میں 2647 صنعتی اداروں کو بند کیا گیا ہے۔مرکز کی جانب سے لوک سبھا میں پیش اعداد وشمار کے مطابق تلنگانہ میں سال 2022 اور 2023 کے دوران 102 چھوٹی صنعتیں بند کی گئی تھیں جبکہ سال 2023 اور 2024 میں 220 صنعتوں کو بند کیاگیا ۔ 2024 ا ور 2025 کے درمیان 1981 چھوٹے صنعتی اداروں کو بند کیاگیا جبکہ جاریہ سال یعنی 2025-2026 اب تک 666 چھوٹی صنعتوں کو بند کیا گیا ۔ جاریہ سال کے ابتدائی 3ماہ میں چھوٹے صنعتی اداروں کو جوبند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ان کی تعداد 666 ہوچکی ہے جو مزید بڑھ سکتی ہے۔مرکزی مملکتی وزیر برائے MSME شوبھا کرندلاجے نے ارکان پارلیمان آر رگھورام ریڈی اور دیگر کے سوال کے جواب میں کہا کہ تلنگانہ میں گذشتہ چند برسوں میں 3099 چھوٹے اور متوسط صنعتی اداروں کو بند کیاگیا ۔تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگر ان چھوٹی اور متوسط صنعتوں کے بند ہونے کا جائزہ لیا جائے تو ریاست میں بی آر ایس اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پہلے سال 1981 چھوٹی صنعتیں بند ہوچکی ہیں ۔ان چھوٹی صنعتوں میں ملازمتوں کی تفصیلات جو لوک سبھا میں پیش کی گئی ہیں ان کے مطابق ان سے 41.14 لاکھ افراد وابستہ رہے ہیں اور جاریہ سال اپریل و جولائی کے وسط میں 12.35 لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کے چھوٹی اور متوسط صنعتوں میں روزگار کی فراہمی کااعلان کیاگیا تھا لیکن اسی مدت میں 666 صنعتی ادارے بند کئے جاچکے ہیں۔3