تلنگانہ میں کانگریس کی لہر نہیں سونامی چل رہی ہے : ریونت ریڈی

   

کار کا ٹائر پنکچر ہوجائے گا اور کنول مرجھا جائے گا۔ بھاری اکثریت سے کانگریس پارٹی حکومت تشکیل دینے کا یقین

حیدرآباد 11 نومبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں کانگریس کی لہر نہیں بلکہ سونامی چل رہی ہے جس میں کار پنکچر ہوجائے گی اور کنول مرجھا جائے گا۔ عوام کانگریس پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ریونت ریڈی نے آج اسمبلی حلقہ جات بیلم پلی، راماگنڈم اور دھرماپوری میں کانگریس کی طوفانی انتحابی مہم چلاتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں عوام جہاں بھی شادی، بیاہ، تہواروں و دیگر تقاریب میں ملاقات کرنے کے دوران ریاست میں کانگریس کی لہر چلنے کی باتیں کررہے ہیں اور کانگریس کووٹ دینے کا ایک دوسرے کو مشورہ دے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں اب ریاست میں عوام کو کانگریس کی لہر دکھائی دے رہی ہے جو 30 نومبر تک سونامی میں تبدیل ہوجائے گی جس کی زد میں بی آر ایس اور بی جے پی بہہ جائے گی۔ یہ انتخابات چیف منسٹر کے سی آر کیلئے آخری انتخابات ہوں گے۔ 3 ڈسمبر کے بعد چیف منسٹر کے سی آر فارم ہاؤز میں آرام کریں گے۔ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی 9 ڈسمبر کو ایل بی اسٹیڈیم میں حلف لے گی۔ کے سی آر اپنی ڈوبتی کشتی کو پار لگانے فرقہ پرست بی جے پی اور بی جے پی کی بی ٹیم مجلس کی تائید حاصل کررہی ہے مگر مودی اور اویسی برادرس بھی کے سی آر کو ڈوبنے سے بچا نہیں پائیں گے۔ شہر حیدرآباد ہو کہ اضلاع ہر طرف کانگریس کی دھوم ہے۔ بی آر ایس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی۔ سنہرے تلنگانہ کا نعرہ دیتے ہوئے ریاست کو مقروض تلنگانہ میں تبدیل کردیا ہے۔ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔ کانگریس کے برسراقتدار آنے پر عوام کو 500 روپئے میں پکوان گیس سلینڈر دیا جائیگا۔ 10 لاکھ روپئے تک مفت طبی امداد فراہم کی جائیگی۔ خواتین کو ڈھائی ہزار روپئے وظیفہ دیا جائے گا۔ غریب عوام کو مکانات کی تعمیرات کیلئے 50 لاکھ روپئے امداد دی جائے گی۔ مائناریٹی ڈیکلریشن کے علاوہ یوتھ، ویمن اور بی سی، ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے جو ڈیکلریشن جاری کیا گیا اس پر مکمل کیا جائے گا۔ عوام کو 200 یونٹ تک مفت برقی سربراہ کی جائے گی۔ کانگریس نے ریاست کو تقسیم کرکے تلنگانہ کیلئے بل میں جو وعدے کئے ہیں، ان وعدوں کو پورا کرنے میں وزیراعظم نریندر مودی پوری طرح ناکام ہوگئے۔ وزیراعظم مودی اور بی جے پی کو تلنگانہ عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے۔ن