تلنگانہ میں کانگریس کی لہر، کرناٹک سے بہتر نتائج کی امید

   

کے سی آر کو کوڑنگل سے مقابلہ کا چیلنج، ریونت ریڈی نے پرچہ نامزدگی داخل کیا، ریالی میں ہزاروں افراد کی شرکت
حیدرآباد6نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے آج کوڑنگل اسمبلی حلقہ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ اس موقع پر ہزاروں کانگریس کارکن اور ریونت ریڈی کے حامیوں نے ریالی منظم کی اور کوڑنگل میں کانگریس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ریونت ریڈی حیدرآباد سے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ کوڑنگل پہنچے۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال سے قبل کارکنوں اور حامیوں سے خطاب میں ریونت ریڈی نے کرناٹک سے زیادہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے عوام سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس کے حق میں لہر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کرناٹک سے بہتر نتائج تلنگانہ کے ہوں۔ انہوں نے کوڑنگل کے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار کی اکثریت سے زیادہ انہیں اکثریت کے ساتھ کوڑنگل سے کامیاب کریں۔ انہوں نے محبوب نگر اور کریم نگر کے عوام سے دھوکہ دہی کا کے سی آر پر الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کریم نگر اور محبوب نگر کے عوام نے پارلیمنٹ کے لئے منتخب کیا تھا لیکن دونوں اضلاع کی ترقی کو نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور ان کے ارکان اسمبلی کو عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کو برسر اقتدار لانے کیلئے سونیا گاندھی نے مجھے ذمہ داری دی ہے اور کوڑنگل عوام کے آشیرواد کے سبب میں پارٹی کی قیادت کر رہا ہوں۔ کے سی آر نے کوڑنگل کو اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن سرسلہ ، گجویل اور سدی پیٹ تک ترقی کو محدود کردیا گیا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بی آر ایس کے رکن اسمبلی نے ایک بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی ۔ نوجوانوں کو روزگار ، آبپاشی کیلئے پانی ، ریلوے لائین ، جونیئر اور ڈگری کالجس کا قیام اور صنعتوں کے قیام کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کے سی آر کو کوڑنگل سے مقابلہ کے چیلنج کو دہرایا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کے سی آر کے مستقبل کا فیصلہ کوڑنگل کے عوام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی چناؤ دراصل کوڑنگل اور کے سی آر کے درمیان مقابلہ ہے ۔ نئی نسل کے تابناک مستقبل کیلئے کوڑنگل سے کانگریس کی بھاری اکثریت سے کامیابی ضروری ہے۔ انہوں نے کوڑنگل کے عوام سے اپیل کی کہ وہ گروہ بندیوں کو فراموش کرتے ہوئے متحدہ طور پر کانگریس کی تائید کریں اور کانگریس کے حق میں قرارداد منظور کی جائے۔کانگریس برسر اقتدار آتے ہی اندرون دو سال تمام وعدوںکی تکمیل کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں صدر پردیش کانگریس ڈی کے شیو کمار کو ایک لاکھ 20 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی ملی ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ کوڑنگل کے عوام انہیں اس سے زائد اکثریت سے کامیابی دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کے حق میں زبردست لہر ہے اور عوام نے تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سابق رکن اسمبلی گروناتھ ریڈی اور دیگر قائدین نے ریالی سے خطاب کیا۔