تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے حکام تیار

,

   

تقاریب میں شرکت کے موقع پر احتیاط ضروری، ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ کا بیان
حیدرآباد۔تلنگانہ کورونا کے معاملہ میں اگرچہ نئی دہلی اور کیرالا سے کافی پیچھے ہے لیکن محکمہ صحت نے ریاست میں دوسری لہر کے امکانات کو مسترد نہیں کیا ہے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے کہا کہ عہدیدار جنوری میں کیسوں کی تعداد میں اضافہ کے اندیشہ کے تحت چوکسی برقرار رکھے ہیں۔ ایک طرف بنیادی سطح پر کیسوں کی وجوہات کا جائزہ لیا جارہا ہے تو دوسری طرف بستیوں میں کیسوں کی تعداد میں اضافہ پر نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں کیس بڑھ سکتے ہیں اور ہر علاقہ سے 10 تا 20 کیس منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے عوام کو شادی اور دیگر عوامی تقاریب میں شرکت کے موقع پر احتیاطی تدابیر کا مشورہ دیا ہے۔ سرینواس راؤ نے کہا کہ عہدیدار غیر علامتی کورونا مریضوں کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں جو ہاسپٹل سے رجوع ہوئے بغیر اپنے طور پر علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر ضلع میں روزانہ تین تا پانچ ہزار ٹسٹ کئے جارہے ہیں جبکہ حیدرآباد میں روزانہ 15 ہزار سے زائد ٹسٹ جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسوں کی تعداد کے اعتبار سے بعض اضلاع میں ٹسٹ میں اضافہ کیا گیا۔ موبائیل ٹسٹنگ سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ اسی دوران ملک کی اہم ریاستوں میں نومبر و ڈسمبر کے درمیان کورونا کیسوں میں کمی درج کی گئی لیکن ٹاملناڈو و کیرالا میں کیسس کی تعداد بدستور برقرار ہے جس پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا۔ کیرالا میں ڈسمبر کے دوران اموات کی تعداد 341 سے بڑھ کر 367 تک پہنچ گئی جبکہ ٹاملناڈو میں فوت افردا کی تعداد 172 سے بڑھ کر 177 ہوچکی ہے ۔ 14 دن کی مدت میں دو مرحلوں میں یہ تعداد ریکارڈ ہوئی جبکہ دیگر ریاستوں میں اس مدت میں اموات 22 فیصد کم ریکارڈ ہوئیں۔ مہاراشٹرا، دہلی، مغربی بنگال، پنجاب، اتر پردیش، راجستھان، گجرات، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بھی نومبر اور ڈسمبر کے درمیان کورونا سے فوت ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔