تلنگانہ کو بی آر ایس دور میں کرفیو اور خشک سالی سے نجات: کے سی آر

   

مسلمان اور کمزور طبقات شعور کا مظاہرہ کریں، کانگریس اقتدار میں فلاحی اسکیمات ختم ہوجائیں گی، آلیر اور کوداڑ میں خطاب
حیدرآباد۔/29 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں تلنگانہ کرفیو اور خشک سالی سے پاک رہا ہے اور ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی صرف بی آر ایس سے ممکن ہے۔ چیف منسٹر نے آج کوداڑ، تنگاترتی اور آلیر میں بی آر ایس کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں منعقدہ آشیرواد سبھاؤں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں کیونکہ کانگریس برسراقتدار آنے پر فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کو روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس پارٹی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے اُن پر عمل آوری نہیں کی جارہی ہے اور ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کسانوں کو کرناٹک میں صرف 5 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ کے سی آر نے دلتوں، اقلیتوں اور کمزور طبقات سے شعور کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کی اقتدار میں واپسی ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں رہے گی۔ کانگریس پارٹی گذشتہ 10 برسوں سے اقتدار سے محرومی کے سبب بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور عوام سے مختلف وعدے کئے جارہے ہیں جن پر عمل آوری میں وہ سنجیدہ نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے کبھی بھی اقتدار میں عوام کی بھلائی کو ترجیح نہیں دی۔ کانگریس کی جانب سے دھرانی پورٹل کی برخاستگی کے اعلان پر کے سی آر نے کہا کہ دھرانی پورٹل کی برخاستگی سے کسان ریتو بندھو اور ریتو بیمہ اسکیمات سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے کسی مطالبہ کے بغیر ہی فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا اور تیسری میعاد میں اسکیمات کی امدادی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 2 پر )