تلنگانہ کی 13 یونیورسٹیز میں اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کو حکومت کی ہری جھنڈی

   

یو جی سی 2018 کے ضوابط کے مطابق بھرتی کا فارمولہ ، وائس چانسلرس اور اعلیٰ حکام کا مشترکہ لائحہ عمل
حیدرآباد ۔ یکم ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ کی اعلیٰ تعلیم اور یونیورسٹیز کے لیے ایک اہم اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ۔ ریاستی حکومت نے ریاست کی 13 سرکاری یونیورسٹیز میں طویل عرصے سے زیر التواء اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی ۔ اگرچہ پہلے TGPSC کے ذریعہ اسکریننگ ٹسٹ کرواکر تقررات کا عمل چلانے کی تجویز زیر غور تھی ۔ تاہم حکومت نے اب 4 اپریل 2025 کو جاری کردہ جی او نمبر 21 کے مطابق ہی ان جائیدادوں پر تقررات کرنے کا قطعی فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے جی او 21 میں درپیش کچھ قانونی و تکنیکی اعتراضات کو دور کرنے کے لیے معمولی ترامیم کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ عہدیدار سریدھر نے محکمہ تعلیم کے حکام کو ضروری تبدیلیاں کر کے فوری احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ جی او 21 میں بنیادی اعتراض پی ایچ ڈی کے انفرادی نمبرات یا وٹیج میں کمی سے متعلق تھا جو کہ یو جی سی کے 2018 کے طئے شدہ ضوابط سے مختلف تھا ۔ اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس بھی کچھ مزید معمولی اصلاحات پر کام کررہے ہیں تاکہ تقررات کا عمل بلارکاوٹ مکمل ہوسکے ۔ یونیورسٹیز میں انتظامی باڈی کی عدم موجودگی اور اعلیٰ تعلیمی حکام کی جانب سے وائس چانسلرس کو بروقت ہدایات جاری نہ کئے جانے کے باعث یہ تقررات کا عمل پچھلے دیڑھ سال سے مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہوا تھا ۔ حکام فی الوقت اسسٹنٹ پروفیسرس کے تبادلے کے امکانات پر بھی غور کررہے ہیں ۔ تقریبا ایک سال قبل یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹیز میں کام کرنے والے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کی ملازمت کے تحفظ کے لیے تقریبا 450 جائیدادوں پر بغیر کسی قانونی پیچیدگی کی بھرتی کی جائیں گی ۔ پالمور یونیورسٹی اور شاتا واہنا یونیورسٹی کے تحت نئے انجینئرنگ اور لا کالجس کے قیام اور ان کے لیے نئی جائیدادوں کی منظوری کے بعد اب تقررات کی جانے والی جملہ جائیدادوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے ۔۔ 2/m/b