فلم ’ رضا کار ‘ کی تیاری ۔ ٹی آر ایس کی مشکلات میں اضافہ کا امکان ۔ دیگر جماعتیں خاموش
حیدرآباد۔20۔نومبر(سیاست نیوز) ٹی آر ایس ریاست میں بی جے پی کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے آمادہ ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ ممکنہ حد تک بی جے پی کو ریاست کے سیاسی منظر نامہ سے غائب کیا جائے لیکن بی جے پی نے اب جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کا مقابلہ شائد ٹی آر ایس نہ کرپائے کیونکہ بی جے پی نے نفرت کا بازار گرم کرنے اور نظام اور مسلمانو ںکے خلاف نفرت پھیلانے ’رضاکار‘ فلم کی تیاری شروع کردی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس فلم کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ پارٹی سے تیار کی جانے والی فلم میں نظام اور آصف جاہی سلاطین کے علاوہ رضا کاروں کو مخالف ہندو دکھانے کی کوشش کا امکان ہے بلکہ فلمساز فلم کی شوٹنگ کے دوران یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تاریخی حقائق کو منظر عام پر لانے فلم تیار کی جا رہی ہے۔ انضمام حیدرآباد کے وقت تباہ کاریوں اور مظالم کی داستانوں کو فلمی انداز میں پیش کرنے کی کوشش میں تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا جائے گا اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن بی جے پی قائد جی نارائن ریڈی جو اس فلم کی تیاری کر رہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ اس فلم کے ذریعہ حقائق کو منظر عام پر لایا جائیگا۔ بی جے پی نے تلنگانہ میں انضمام حیدرآباد کے واقعا ت اور رضاکاروں پر مشتمل فلم کی تیاری کا اعلان کیا تھا اور اب اس فلم کی شوٹنگ شروع کی جا چکی ہے جس میں رضاکاروں کے ساتھ ساتھ نظام اور آصف جاہی سلاطین کو ظالم اور ہندو طبقات کو مظلو م کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس ‘بی جے پی انتخابی حکمت عملی ‘ ووٹنگ کی منصوبہ بندی ‘ تشہیری منصوبہ بندی کے علاوہ دیگر محاذوں پر منظم مقابلہ کی کوشش کر رہی ہے لیکن اب جو فلم’رضاکار‘ تیار ہو رہی ہے اس کے مقابلہ کیلئے پارٹی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہیں لیکن کہا جار ہاہے کہ پر دہ پر جو زہر اگلا جائے گا اس کا مقابلہ کرنے سے دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی کنارہ کشی اختیار کرنے فیصلہ کرچکے ہیں کیونکہ اگر اس فلم کے مقابلہ میں کوئی اور فلم تیار کی جاتی ہے تو اکثریتی ووٹ کھونے کا خطرہ ہوگا اسی لئے بی جے پی کی اس فلمی سیاست کے مقابلہ سلسلہ میں تلنگانہ کی جماعتیں خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ٹی آر ایس ریاست میں فرقہ واریت کو فروغ سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ م