تلنگانہ کی سیاست ‘ کے ٹی آر۔ریونت ریڈی

   

Ferty9 Clinic

اپنا اپنا مال بچھائے بیٹھے ہیں
لوگ یہاں بازار سجائے بیٹھے ہیں
ریاست تلنگانہ میں سیاسی ماحول مسلسل گرماتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ریاست میں فوری طور پر کہیں بھی انتخابات نہیں ہونے والے ہیں۔ حضور آباد میں ضمنی چناو ہونے والا ہے اور ابھی اس کیلئے بھی کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی اہم انتخاب فی الحال تلنگانہ میں ہونے والا نہیں ہے لیکن ابھی سے ریاست میں سیاسی ماحول مسلسل گرم ہوتا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر جس وقت سے بی جے پی نے چار لوک سبھا حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور پھر اسے دوباک ضمنی انتخاب میں کامیابی ملی تھی بی جے پی کے حوصلے بلند ہوگئے تھے اور اس نے ماحول میں کچھ تیزی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ناگرجنا ساگر ضمنی چناو میں پارٹی کو جیسے ہی شکست ہوئی ایسا تاثر عام ہوگیا کہ بی جے پی کی کامیابیاں وقتی عروج تھیں اور وہ کیڈر سے عاری جماعت ہے جسے صرف فرقہ پرستی کا سہارا ہے لیکن عوام اس کی تائید نہیں کر رہے ہیں۔ چند برس تک کانگریس پارٹی مسلسل عوامی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی ۔ یکے بعد دیگرے انتخابات میں ناکامیاں اور اس کے منتخب ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے نتیجہ میں پارٹی کا وجود کمزور ہوگیا تھا ۔ تاہم جب ہائی کمان کی جانب سے ریونت ریڈی کو تلنگانہ پردیش کانگریس کی صدارت سونپی گئی اس کے بعد سے ریاست کی سیاست میں اچانک ہی ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے سیاسی اعتبار سے کانگریس کو یکسر نظرانداز کیا گیا تھا اور صرف بی جے پی کو تسلیم کیا جا رہا تھا ۔ تاہم ریونت ریڈی کے صدر پردیش کانگریس بنتے ہی صورتحال تبدیل ہوگئی ۔ ریونت ریڈی نے اپنی پارٹی کی ذمہ داری بھی جس انداز میں سنبھالی تھی ریاست بھر کے عوام کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی تھی ۔ اس کے بعد مسلسل ریونت ریڈی کانگریس میں نئی جان ڈالنے اور پارٹی کی صفوں میں استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں تیزی لا چکے ہیں۔ وہ مسلسل حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے گھیرنے کی اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش ضرور کر رہے ہیں ۔ کانگریس کی تنقیدوں اور اس کے حملوں کا اب ٹی آر ایس کی جانب سے جواب بھی دیا جانے لگا ہے ۔
حالیہ عرصہ میں ریونت ریڈی کی سرگرمیوں نے ٹی آر ایس کو بھی توجہ مبذول کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ پارٹی کے ورکنگ صدر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راو خود اب ریونت ریڈی کی تنقیدوں کا جواب دینے یا ان پر خود تنقید کرنے کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ ریونت ریڈی کی تنقیدوں کا جواب ٹی آر ایس اور وہ بھی کے ٹی آر کی جانب سے دیا جانا خود ریونت ریڈی کی ابتدائی کامیابی ہے ۔ اب ٹی آر ایس ریاست کی سیاست میںکانگریس کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ اس کی تنقیدوں کو اہمیت دی جا رہی ہے اور ان کے بیانات کا جوا ب بھی دیا جا رہا ہے ۔ ریونت ریڈی کے خلاف جو زبان اور لب و لہجہ استعمال کیا جا رہا ہے وہ ٹی آر ایس کی صفوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔ آج ریونت ریڈی کی قیامگاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ یا پھر کانگریس کے الفاظ میں حملے کی کوشش خود ٹی آر ایس کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے ۔ ریونت ریڈی ٹی آر ایس کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں تو ضرور کامیاب ہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی وہ عوامی جلسوں کا اہتمام کرتے ہوئے اور اہمیت کے حامل مقامات پر ایسے پروگرامس کرتے ہوئے بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ ریونت ریڈی کی سرگرمیاںخود عوام میں بھی موضوع بحث بننے لگی ہیں اور ٹی آر ایس کی جانب سے ان کا جواب دیا جانا اور ان پر تنقیدیں خود ریونت ریڈی کے حق میں بہتر ثابت ہو رہی ہیں۔
ویسے تو سیاسی سرگرمیاں ہمیشہ ہی جاری رہتی ہیں لیکن ٹی آر ایس کی شاندار کامیابیوں اور عملا اپوزیشن کا وجود ختم کردئے جانے کے بعد سے ریاست میں سیاسی سرگرمیوں میں کمی آگئی تھی ۔ حکومت اور ٹی آر ایس کے خلاف کوئی بیان بازی تک کرنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہے تھے اور اگر کہیںایسا ہو بھی رہا تھا تو اسے نہ تشہیر مل رہی تھی اور نہ ہی عوامی تائید ۔ اب جبکہ ریونت ریڈی نے ایک مخصوص حکمت عملی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں آغاز کیا ہے تو ٹی آر ایس اور اس کے قائدین بھی بے چینی محسوس کرنے لگے ہیںاور جواب دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے کانگریس کو واقعی کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا ۔