موجودہ حکومت کا جامعات میں تقررات پر سابقہ طریقہ کار کو بحال کرنے کا جائزہ
حیدرآباد 14 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کی جامعات میں تقررات کیلئے حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے تلنگانہ اسٹیٹ یونیورسٹیز کامن رکروٹمنٹ بورڈ بل سے موجودہ حکومت دستبردراری اختیار کرسکتی ہے! حکومت ‘تلنگانہ میں موجود جامعات میں تقررات کیلئے سابقہ طریقہ کار اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ سال کے اختتام تک تمام یونیورسٹیز کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کو یقینی بنانے اقدامات کئے جائیں گے۔ جامعات میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے تقررات پر سابقہ بی آر ایس حکومت کی جانب سے اسمبلی میں تمام جامعات میں تقررات کیلئے بورڈ کی تشکیل کو منظوری دی تھی لیکن حکومت کی منظوری کے بعد گورنر کو روانہ کئے گئے بل پر مختلف گوشوں کے اعتراضات کے بعد گورنر نے اس بل کو زیر التواء رکھ دیا تھا اور اب بھی یہ بل گورنرکے پاس زیر التواء ہے ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے جامعات میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے عہدیداروں سے تبادلہ خیال کے علاوہ تلنگانہ اسٹیٹ یونیورسٹیز کامن رکروٹمنٹ بورڈ بل کی تفصیلات سے آگہی حاصل کی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے گورنر ڈاکٹر ٹی سوندراراجن کے پاس زیرالتواء اس بل سے دستبرداری پر غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ جلد ہی کابینہ کی جانب سے اس بل سے دستبرداری کرنے کا فیصلہ کرکے گورنر کو واقف کروایا جائے گا۔ حکومت سے اس بل کو روشناس کروائے جانے کے بعد جامعات میں برسر کار تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی جانب سے کہا جا رہاتھا کہ حکومت جامعات کی خودمختار حیثیت کو ختم کرکے یونیورسٹی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حکومت کے ذمہ داروں کا کہناتھا کہ تقررات کو شفاف بنانے اس بورڈ کی تشکیل ضروری ہے۔ یونیورسٹی میں خدمات انجام دینے والے اہم عہدیداروں کا کہناہے کہ سابقہ طریقہ کار ہی درست ہے اور جب کبھی کوئی جائیداد خالی ہوتی ہے اس پر تقرر کیلئے جامعہ کے ذمہ داروں سے اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لا کر تقررات کے عمل کو مکمل کرلیا جاتا ۔ اسی لئے سابقہ طریقہ کار کی بحالی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی عملہ کی تنظیموں کے ذمہ داروں سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا اور تمام جامعات کو تقررات کا اختیار فراہم کردیا جائے گا۔