چیف جسٹس آف انڈیا سے جمہوریت کو بچانے کی اپیل، ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کی تحقیقاتی رپورٹ ججس اور سیاسی جماعتوں کو روانہ کرنے کا فیصلہ، نریندر مودی سیاسی سازشوں پر لگام لگائیں
حیدرآباد۔/3 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ نے انکشاف کیا کہ بی جے پی ملک میں 4 غیر بی جے پی ریاستوں کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرچکی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کی عدم استحکام کی سازشوں پر لگام لگائیں اور ملک کے وقار پر دھبہ آنے سے بچائیں۔ پرگتی بھون میں آج رات میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے ٹی آر ایس کے 4 ارکان اسمبلی کی خریدی سے متعلق حالیہ اسکام کا حوالہ دیا اور عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ ملک میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے اہم رول ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ابھی تک 8 ریاستوں میں غیر بی جے پی حکومت کو زوال سے دوچار کردیا ہے اور اب تازہ ترین سازش کے تحت چار ریاستیں نشانہ پر ہیں جن میں تلنگانہ، آندھرا پردیش، دہلی اور راجستھان شامل ہیں۔ ان ریاستوں میں ارکان اسمبلی کی خریدی کے ذریعہ ایکناتھ شنڈے پیدا کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے وہ ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ ملک اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے اہم رول ادا کریں۔ ملک میں جب کبھی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوا عدلیہ نے اہم رول ادا کیا۔ میں چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت، سپریم کورٹ کے ججس اور تمام ریاستوں کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کو بچائیں ورنہ ملک خطرہ میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا تو ملک پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ جائے گا اور ملک کے استحکام اور وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ کے سی آر نے انتہائی جارحانہ انداز میں بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو خریدنے کیلئے جس گروہ نے سازش رچی تھی وہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور دیگر اہم قائدین کے نام لے رہے تھے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اقتدار کے لالچ میں بی جے پی ملک کی جمہوریت اور دستور کو داؤ پر لگارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں انتہائی دکھ کے ساتھ بھاری دل سے یہ کہنے کے موقف میں ہوں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کے سی آر نے اعلان کیا کہ ارکان اسمبلی کی خریدی معاملہ میں تحقیقات کے دوران جو ثبوت سامنے آئے ہیں انہیں چیف جسٹس آف انڈیا، سپریم کورٹ کے تمام ججس، ہائی کورٹ کے چیف جسٹسوں کے علاوہ سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، سنٹرل ویجلینس کمیشن، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ تمام چیف منسٹرس اور تمام سیاسی جماعتوں کے صدور کو روانہ کررہے ہیں تاکہ ملک بھر میں حقائق عوام کے روبرو پیش کئے جائیں۔ وزیر اعظم نے مغربی بنگال میں کہا تھا کہ ترنمول کانگریس کے 40 ارکان اسمبلی ان سے ربط میں ہیں۔ تلنگانہ میں ارکان اسمبلی کی خریدی معاملہ میں پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنے کیلئے وسیع تر تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یہ ایک منظم جرم ہے جس میں 24 ارکان ملوث ہیں جن کے پاس کئی آدھار، پیان کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس ہیں۔ 24 رکنی یہ گروہ مختلف شکلوں میں نمودار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کے خلاف عنقریب قومی سطح پر جئے پرکاش نارائن طرز کی تحریک شروع کی جائے گی۔ ہم ایسی حرکتوں کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ ارکان اسمبلی کو 100 کروڑ روپئے تک کی پیشکش کی گئی ۔ ان سرگرمیوں کو روکا نہیں گیا تو نہ صرف جمہوریت بلکہ ملک خطرہ میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت کے خواہشمند ارکان اسمبلی کو دستور کے مطابق دوتہائی تعداد میں آنے کے بعد ہی شامل کیا گیا۔ ہم نے کانگریس ارکان کو نہیں خریدا تھا۔ حیدرآباد آکر بی جے پی ایجنٹس کا ہماری حکومت کو گرانے کی دھمکی دینا ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ اس طرح کی حرکتوں پر لگام لگائیں۔ میں بھی گزشتہ آٹھ برسوں سے چیف منسٹر کی حیثیت سے آپ کا سیاسی ساتھی ہوں اور میں یہ مشورہ دینے کے موقف ہوں کہ ملک کو بچانے کیلئے اس طرح کی سازشیں بند کریں۔ چیف منسٹر نے منوگوڑ میں بی جے پی کی جانب سے مہم کو انتہائی شرمناک قرار دیا اور کہا کہ ایک اسمبلی حلقہ کی کامیابی کیلئے شرمناک حرکتیں کی گئیں۔ جمہوریت میں الیکشن میں ہار اور جیت نئی بات نہیں ہے۔ ضمنی چناؤ میں حضورآباد اور دوباک میں ٹی آر ایس کو شکست ہوئی جبکہ ناگر جنا ساگر اور حضور نگر میں ہمیں کامیابی ملی۔ ہر پارٹی کو عوامی فیصلہ قبول کرنا چاہیئے۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ ارکان اسمبلی کی خریداری معاملہ کو ملک بھر میں بے نقاب کرنے کی مہم شروع کریں گے۔ر