تین گھنٹوں کی بارش سے شہر کی ترقی کے دعوؤں کی قلعی کُھل گئی

   

بورا بنڈہ علاقہ میں آٹوز اور موٹر سیکلیں کھلونوں کی طرح پانی میں بہہ گئیں۔ کئی علاقے پانی میں محصور
عثمان ساگر کے 4، حمایت ساگر کے 2 گیٹس کھول دیئے گئے۔ مزید 3 دن کی بارش کا انتباہ ’ایلو‘ الرٹ جاری
حیدرآباد۔/13 اکتوبر، ( سیاست نیوز) شہر کے علاوہ مضافاتی علاقوں اور اضلاع میں دھواں دھار بارش ریکارڈ ہوئی جس سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ متحدہ ضلع رنگاریڈی میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے سیلاب کا پانی شہر کے جڑواں ذخائر آب میں جمع ہورہا ہے جس پر عثمان ساگر کے 4 اور حمایت ساگر کے 2 گیٹس کھول کر موسیٰ ندی میں پانی چھوڑا جارہا ہے۔ کل نصف شب تک بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر میں تین گھنٹوں تک طوفانی بارش ہوئی جس کے سبب سڑکیں جھیل میں تبدیل ہوگئیں اور نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ بورا بنڈہ میں آٹوز اور موٹر سیکلیں پانی میں بہہ گئیں۔ کئی علاقوں میں برقی منقطع ہوگئی ۔ سب سے زیادہ کوکٹ پلی میں 10.4 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ قطب اللہ پور میں 10 سنٹی میٹر، ترملگیری میں 9 سنٹی میٹر، پٹن چیرو میں 8.3 سنٹی میٹر، موسیٰ پیٹ میں 8 سنٹی میٹر، فتح نگر میں 7.3 سنٹی میٹر، بالا نگر میں 6.8 سنٹی میٹر بارش ہوئی ۔ اس کے علاوہ چارمینار، فلک نما، بہادر پورہ، یاقوت پورہ کے علاوہ سکندرآباد اور ایل بی نگر زونس میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی ہے۔ گذشتہ تین چار دن سے شہر و اضلاع میں بارش جاری ہے لیکن کل شہر میں اچانک دھواں دھار بارش سے عام زندگی متاثر ہوئی ۔ سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہی۔ جی ایچ ایم سی عملہ و پولیس کو پانی کی نکاسی کے ساتھ ٹریفک کو باقاعدہ بنانے گھنٹوں مشقت کرتے دیکھا گیا۔ موسلا دھار بارش سے بورا بنڈہ کی کئی کالونیوں میں سیلاب کا پانی تیز رفتار سے بہہ رہا تھا جس کی زدمیں کاریں، آٹوز اور موٹر سیکلیں آگئیں اور پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔ حکومت اور جی ایچ ایم سی سے پانی کے بہاؤ کو باقاعدہ بنانے کروڑہا روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں مگر صرف 10 سنٹی میٹر بارش سے دعوؤں کی قلعی کُھل گئی۔ گھروں کے سامنے پارک گاڑیاں بہہ گئیں۔ ایرہ گڈہ میٹرو اسٹیشن اور بیگم پیٹ علاقہ میں پرکاش نگر میٹرو اسٹیشن میں بارش کا پانی جمع ہوگیا۔ خیریت آباد، امیرپیٹ، یلاریڈی گوڑہ، بیگم پیٹ، الوال، جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز، پنجہ گٹہ، صنعت نگر کی سڑکوں پر کافی دیر تک بارش کا پانی جمع رہا جس سے گاڑی رانوں کو کافی دشواریاں پیش آئیں۔ شہر اور مضافات کے کئی علاقوں میں آج بھی گھٹنوں کے برابر پانی جمع ہے۔ حکام کی جانب سے پانی کی نکاسی کیلئے اقدامات نہ کئے جانے کی عوام شکایت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بارش سے کئی کالونیاں جھیل میں تبدیل ہورہی ہیں۔ قائدین اور عہدیداروں کو اس کی اطلاع ہے مگر کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ کئی گھروں میں پانی داخل ہوجانے سے گھریلو روز مرہ کی اشیاء پانی میں ڈوب کر ناکارہ ہوگئیں۔ بچوں اور ضعیف افراد کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پڑوسی ریاستوں آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹرا میں بھی طوفانی بارش ہورہی ہے جس سے سیلاب کا پانی تیزی سے بہہ کر تلنگانہ پہنچ رہا ہے۔ کئی آبپاشی پراجکٹس دوبارہ لبریز ہوگئے ہیں۔ حکام نے نظام آباد کے سری رام ساگر پراجکٹ کے 15 گیٹس کھول دیئے۔ پراجکٹ میں 66,340 کیوسکس پانی کا اِن فلو ہے جبکہ 46,800 کیوسکس آؤٹ فلو ہے۔ محبوب نگر میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی ہے جس سے کئی مکانات میں پانی داخل ہوگیا ۔ حکام نے متاثرین کو عارضی راحت فراہم کرکے مقامی فنکشن ہال میں منتقل کردیا۔ بالخصوص مہیشورکالونی، شیوا شکتی نگر، مدھرا نگر، پریم نگر، اربی گلی، نیو ٹاون، تلنگانہ چوراستہ، رائچور روڈ پر پانی جمع ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں مزید تین دن بارش کی پیش قیاسی کرکے نظام آباد، راجنا سرسلہ، جئے شنکر بھوپال پلی، ورنگل، ہنمکنڈہ، سدی پیٹ، رنگاریڈی، وقارآباد، سنگاریڈی، میدک اور کاماریڈی میں کہیں کہیں زیادہ اور حد سے زیادہ بارش اور چند اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا انتباہ دیا ہے۔ 14 اکٹوبر کو حیدرآباد، اضلاع منچریال، نظام آباد، جگتیال، پداپلی، کھمم ، نلگنڈہ، سوریا پیٹ، ورنگل، ہنمکنڈہ، یادادری، بھونگیر، رنگاریڈی، کاماریڈی میں موسلا دھار بارش کی پیش قیاسی ہے۔ 15 اکٹوبر کو اضلاع ورنگل، ہنمکنڈہ، جنگاؤں، سدی پیٹ، رنگاریڈی، حیدرآباد، میڑچل ملکاجگیری میں بارش ہوگی۔ محکمہ موسمیات نے تین دنوں کیلئے ’ ایلو ‘ الرٹ جاری کیا ۔ ن