دہلی کے احتجاجیوں کو بائیں بازو تنظیم کی بھرپور تائید ، سید ولی اللہ قادری و دیگر کا اظہار یگانگت
حیدرآباد /2 جنوری ( سیاست نیوز ) متنازعہ قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں گذشتہ 17 دنوں سے جاری احتجاج کو آج بائیں بازو کے نوجوانوں نے تنظیم نے ا پنی بھرپور تائید کا اعلان کیا ۔ بائیں بازو کی جانب سے سی اے اے کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے 8 جنوری کو بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے ۔ بائیں بازو کی تنظیم آل انڈیا یوتھ فیڈریشن ( اے آئی وائی ایف ) کے قائدین کی بڑی تعداد جو ملک بھر کی ریاستوں سے جامعہ ملیہ پر جمع تھی ۔ طلبہ نے اظہار یگانگت کرتے ہوئے شاہین باغ کا رخ کیا ۔ قائدین نے شاہین باغ پر گذشتہ 17 دنوں سے دن رات جاری احتجاج اور تین ڈگری درجہ حرارت میں خاتون کا اپنے کمسن بچوں کے ساتھ جاری مظاہرہ کو سلام کیا اور ان کے نعرہ دستور بچاؤ ملک بچاؤ اور این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کو واپس لینے تک احتجاج کو جاری رکھنے کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ اس قانون کی واپسی تک ملک بھر میں احتجاج جاری رہے گا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبہ کے حوصلہ اور عزم کو بھی اے آئی وائی ایف نے بھرپور تائید کی ۔ اس موقع پر صدر اے آئی وائی ایف تلنگانہ سید ولی اللہ قادری کے ہمراہ محمد سلیم ، ، مہدی حسن ، آفتاب عالم خان ، ایس سینا دانش ترملائی و دیگر شامل تھے ۔ ان قائدین ینے احتجاج کر رہی خواتین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے احتجاج کی بھرپور تائید کا اعلان کیا ۔ سید ولی اللہ قادری نے کہا کہ بی جے پی ، آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل کرتے ہوئے ملک کی عوام کو بانٹ رہی ہے اور این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کے نام پر مسلمانوں کو ہتھیار بناتے ہوئے ملک کی باقی 85 فیصد آبادی کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے ۔ انہوں نے ملک کی اکثریتی عوام سے درخواست کی کہ وہ آسام کے حالات کا جائزہ لیں ۔ جہاں پہلے مسلمانوں کو پھر بعد میں دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ انہوں نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ آیا انہیں شہریت پوچھنے کا حق کس نے دیا ۔ ولی اللہ قادری نے مودی حکومت پر ہٹلر شاہی حکومت کا الزام لگایا اور کہا کہ دستور سے کھلواڑ کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے کالے قوانین کو مسترد کردیا جائے گا ۔انہوں نے تلنگانہ حکومت سے کہا کہ وہ پردے کے پیچھے کی سیاست کو ترک کردیں اور اپنی زبان سے متنازعہ قانون کے خلاف آواز بلند کریں ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر سے درخواست کی کہ وہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے این آر سی ، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف قرارداد منظور کریں کہ یہ حکومت کی طرز پر اس قانون کو مسترد کردیں ۔ سید ولی اللہ قادری نے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ جامعہ کا دورہ کریں اور بیان بازی جلسوں کو چھوڑ کر سڑکوں پر آئیں اور تلنگانہ اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کیلئے وزیر اعلی ریاست تلنگانہ پر دباؤ ڈالیں ۔