جے پور: ریاستی حکومت کے ڈیتھ ریفرنس اور 13 مئی 2008 کو جے پور شہر میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے چاروں ملزمین کو سنائی گئی موت کی سزا سے متعلق ہائی کورٹ میں ملزمین کی طرف سے پیش کی گئی کل 28 اپیلوں پر سماعت مکمل ہو چکی ہے۔عدالت نے فریقین سے تحریری دلائل طلب کر لیے۔ تحریری دلائل کے بعد عدالت اپنا حکم سنائے گی۔ جسٹس پنکج بھنڈاری اور جسٹس سمیر جین کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی 48 دن تک سماعت کی۔ ہائی کورٹ کے وکلاء کی ٹیم جس میں سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل بھی شامل ہیں،اس کیس میں ملزم کی طرف سے پیش ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ پولیس نے اس کیس میں شہباز حسین، محمد سیف، سیف الرحمان، سرور اعظمی اور سلمان کو گرفتار کیا تھا۔ 18 دسمبر 2019 کو خصوصی عدالت نے شہباز حسین کو بری اور دیگر 4 ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔خصوصی عدالت کے فیصلے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد استغاثہ نے چاندپول ہنومان مندر کے قریب سے ملنے والے زندہ بم کے سلسلے میں پانچ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔
شرینگری میں تصادم، حالات قابو میں
شرینگری (کرناٹک): کرناٹک کے شرینگری میں منگل کی شام کو کانگریس لیڈر رفیق اور سری رام سینا کے کارکنوں کے درمیان مسجد کے سامنے بھگوا جھنڈا لگانے کے معاملے پر تصادم ہوگیا۔مسجد کمیٹی کے رکن اور کانگریس کے لیڈر رفیق نے مسجد کے سامنے بھگوا جھنڈے لگانے پر اعتراض کیا۔ اس کے نتیجے میں کانگریس لیڈر اور شری رام سینا کے رکن ارون کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جو تصادم میں بدل گئی۔اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گنجن آریہ نے پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔