جائیداد کو تحفہ دیتے وقت بچوں کے ساتھ معاہدہ کروالیں

   


پیرانہ سالی و ضعیف العمری میں نگہداشت کی شرط رکھیں ، جسٹس سنجے کے کول اور جسٹس اے ایس اوکا کا مشورہ
حیدرآباد۔8۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) اپنی جائیداد بچوں یا کسی اور کو بطور تحفہ دیتے وقت کئے جانے والے معاہدہ میں جائیداد منتقل کرنے والوں کو چاہئے کہ پیرانہ سالی و ضعیف العمری کے دوران نگہداشت اور تیمارداری یا پرورش کے سلسلہ میں معاہدہ میں صراحت کریں ۔جائیداد بطور تحفہ منتقل کرنے اور اس طرح کی کوئی شرط یا تحریر نہ ہونے کی صورت میں دیا گیا تحفہ واپس حاصل نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کو رٹ نے اس سلسلہ میں واضح طور پر احکام جاری کرتے ہوئے ضعیف العمر شہریوں اور والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے حاصل کی گئی جائیداد کو بطور تحفہ اپنے بچوں کا یا کسی اور رشتہ دار کے حوالہ کرتے وقت جو معاہدہ تیار کرتے ہیں اس میں اس بات کی صراحت کریں کہ وہ یہ تحفہ انہیں حوالہ کرنے کے عوض ضعیف العمری و پیرانہ سالی کے دوران اپنی نگہداشت ‘ تیمارداری اور پرورش کے حق دار ہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ دیا گیا تحفہ واپس لینے کے مجاز رہیں گے۔ جسٹس سنجے کے ۔کول اور جسٹس اے۔ ایس ۔اوکا نے شہریوں کو اس مشورہ پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جائیداد کی حوالگی کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی اور اپنی اولاد کو اس آس و امید کے ساتھ والدین اپنی زندگی بھر کی کمائی سے حاصل کی ہوئی جائیداد بطور تحفہ حوالہ کردیتے ہیں کہ ان کی اولاد ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے گی اور ان کی پرورش و نگہداشت کرے گی لیکن جائیدادوں کے حصول کے بعد اکثر اولاد اپنے والدین کو نظرانداز کرنے لگتی ہے اسی لئے والدین کو اپنی جائیداد اولاد کے حوالہ کرنے سے قبل جو معاہدہ کیا جاتا ہے اس میں تحریری طور پر اس شرط کو شامل کرنا چاہئے تاکہ اگر بچوں کی جانب سے انہیں نظرانداز کئے جانے کی صورت میں وہ اپنی جائیداد کے تحفہ کو واپس حاصل کرسکیں۔سپریم کورٹ نے گروگرام کی ایک خاتون کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران یہ مشورہ دیا اور کہا کہ اس طرح کے حالات سے محفوظ رہنے کے لئے والدین کو یہ شرائط درج کرتے ہوئے تحفہ کا معاہدہ کرنا چاہئے ۔ گفٹ ڈیڈ میں اس طرح کے شرائط نہ ہونے کی صورت میں اس ڈیڈ کو منسوخ کرنے یا دیا گیا تحفہ واپس لینے کا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا ۔م