نئی دہلی ۔ 26 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) فوجی سربراہ جنرل بپن راوت آج بڑے تنازعہ میں پھنس گئے جب انہوں نے برسر عام ان لوگوں پر تنقید کی جو نئے قانون شہریت پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کا مطلب عوام کو ملک بھر میں آتش زنی اور تشدد پر آمادہ کرنا نہیں ہے ۔ ان کے تبصرہ پر اپوزیشن پا رٹیوں ، جہد کاروں اور ملٹری کے سابق عہدیداروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور انہیں سیاسی ریمارکس کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ ناقدین نے کہا کہ جنرل راوت نے اپنے ریمارکس کے ذریعہ آرمی میں دیرینہ روایت پر مفاہمت کی کہ سیاسی امور میں مداخلت نہ کی جائے ۔