جامعہ ملیہ کے طلبہ کو ائمہ مساجد کی حمایت

   

طلبہ سے پُرامن مظاہرے کرنے کی اپیل ،ملک کے آئین پر بھرپور ایقان

نئی دہلی،17دسمبر(سیاست ڈاٹ کام)جامعہ نگر علاقے کی مسجدوں کے امام بھی آج سڑک پر اتر کر شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔مختلف مسجدوں کے امام جامعہ کے مرکزی دروازے پر آکر طلبہ کے ساتھ متحد نظرآئے ۔اماموں نے طلبہ سے پرامن مظاہرے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئین بچانے کی اس لڑائی میں ہم طلبہ کے ساتھ ہیں۔اس ملک میں باباصاحب امبیڈکر کے آئین پر ہمیں پورا بھروسہ ہے اور آئین سے چھیڑخانی کسی بھی حال میں برداشت نہیں ہے ۔خلیل اللہ مسجد کے امام نے کہا کہ ہم مسجدوں میں رہتے ہیں لیکن ملک اور آئین پرجس طرح کا خطرہ منڈرا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے سڑک پر اترے ہیں۔اماموں نے اتوار کی رات پولیس کی بربریت کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جامعہ کی مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ دھکا مکی کی ہے جوقابل مذمت ہے ۔پولیس کس منشا سے مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ بدسلوکی کی ،اس کا جواب حکومت کو دینا پڑے گا۔طلبہ کے ساتھ مجرمین سے بھی برا سلوک کیاگیا جو بے حد شرم ناک ہے ۔اماموں نے کسی بھی بھڑکاؤ تقریر سے بچنے اور ڈسپلن میں رہ کر اپنی تحریک چلانے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سی اے بی کے خلاف لڑائی لمبی ہے ،اس لئے مکمل طورپر صبروتحمل سے کام لیں۔سی اے اے کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پیر کو دن بھر جامعہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور رات بھر کے لئے تحریک کو ملتوی کردیاتھا۔منگل کو صبح 10بجے طلبہ اور مقامی لوگ جامعہ کے باہر پھر سے جمع ہونے لگے ۔اسی دوران قریب 30مسجدوں کے امام یہاں پہنچے اور سڑک کے کنارے بیٹھ کر اپنا احتجاج ظاہر کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کے ذریعہ زبردستی گھس کر مبینہ طورپر طلبہ کے ساتھ اتوار کو کی گئی مارپیٹ کرنے کے خلاف جامعہ،جواہر لال نہرو اور دہلی یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبہ نے نئی دہلی مبینہ طورپر پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرہ کیاتھا۔پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرے میں کئی ٹیچر بھی شامل تھے ۔مشہور سماجی کارکنان ہرش مندر،سینئر وکیل پرشانت بھوشن،پروفیسر اپوروآنند سمیت کئی شہری سماج کے لوگوں نے بھی یہاں آکر طلبہ کے ساتھ اتحاد دکھایا تھا۔ساتھ ہی پولیس بربریت کے خلاف شہری سماج کے لوگوں نے بھی یہاں پہنچ کر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ہرش مندر نے کہاکہ طلبہ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اپنی تحریک پرامن طریقے سے چلائیں۔سی اے اے کے خلاف لڑائیمیں ملک بھر کے شہری سماج کے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔آپ لوگ خود کو اکیلا نہ سمجھیں۔اس کے علاوہ بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد راون نے بھی جامعہ پہنچ مظاہرین کو اپنی حمات دی۔