جامعہ نظامیہ سے پچھلے 154 سال سے تمام مذاہب کے ماننے والے بھی علمی فیض حاصل کیا

   

جانشین سجادہ نشین دیوان صاحب درگاہ اجمیر شریف کی آمد پر مولانا مفتی خلیل احمد قادری کا خطاب
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل : ( پریس نوٹ ) : مولانا مفتی خلیل احمد قادری امیر جامعہ نظامیہ نے جامعہ نظامیہ شبلی گنج میں جانشین سجادہ نشین دیوان صاحب درگاہ اجمیر شریف مولانا سید شاہ خواجہ نصیر الدین چشتی معینی اجمیری چیرمین آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی آمد پر استقبالیہ تقریب سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حافظ شاہ محمد انوار اللہ فاروقی قادری چشتی صابری فضیلت جنگ خان بہادر ؒ بانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے حضور اکرم ﷺ کے عشق ومحبت میں مدینہ منورہ میں قیام کا ارادہ فرمایا تھا مگر پیارے نبی ؐ کو کچھ اور منظور تھا پیارے نبیؐ نے حضرت شیخ الاسلام کو خواب میں تشریف لاکر حکم دیا کہ اے انوار آپ کی یہاں نہیں دکن میں ضرورت ہے آپ دکن جاو اور ایک دینی درسگاہ قائم کرو اس حکم پر آپ دکن تشریف لائے اور سن 1292 ہجری میں جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی تقوی و توکل کی بنیاد اور پیارے نبی ؐ کے اشارے پر بنیاد ڈالی ۔ جامعہ نظامیہ کے قیام کا مقصد اللہ کے رسول ؐ اور اہل بیت اطہار ؓو صحابہ کرامؓ اور بزرگان دین اولیاء اللہ کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ جامعہ سے اب تک لاکھوں علماء و فاضیلین، حفاظ فارغ ہوے اور محدثین، مفسرین، فقھاء ، ادیب وغیرہ پیدا ہوئے اور دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی شمع کو روشن کیا اور یہ سلسلہ جاری ہے صرف دکن کی حد تک جامعہ کے فارغین محدود نہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے میں جامعہ کے فارغین اپنے اپنے انداز میں تعلیمی میدان میں اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کا کام کرنے میں مصروف ہیں اور جامعہ نظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم حضرات بھی علمی فیض حاصل کیا جن میں اس وقت کے آندھراپردیش کے چیف منسٹر بھی شامل ہیں جنھوں نے جامعہ نظامیہ میں اردو اور فارسی سیکھا۔ جامعہ نظامیہ صرف اور صرف مسلک حق اہلسنت وجماعت کی ترجمانی کرتا ہے اور عوام الناس کو مسلکی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک جگہ جمع ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔ جامعہ نظامیہ اور فارغین جامعہ کی اجمیر شریف اور حضرت خواجہ غریب نواز ؒ سے اٹوٹ وابستگی ہے بانی جامعہ نے جب اجمیر شریف تشریف لے گئے تو وہاں بھی مدرسہ دارالعلوم دینیہ معینیہ کی بنیاد ڈالی تاکہ رشد و ہدایت اور تشنگان علم و عرفان کو فیضیاب کیا جاسکے اس موقع پر درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین دیوان صاحب حضرت مولانا سید خواجہ زین العابدین چشتی کے فرزند و جانشین حضرت مولانا سید خواجہ نصیر الدین چشتی کی جامعہ نظامیہ آمد پر مولانا مفتی خلیل احمد نے بہت خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خیر مقدم کیا جانشین سجادہ نشین دیوان صاحب درگاہ اجمیر شریف حضرت مولانا سید خواجہ نصیر الدین چشتی معینی اجمیری چیرمین آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ نظامیہ اور بانی جامعہ وعلمائے جامعہ کی خدمات کو دیکھکر دل باغ باغ ہوگیا سرزمین دکن کا یہ ادارہ پچھلے ایکسو چوپن سال سے خاموش خدمات انجام دینے میں مصروف ہے علماء و شیوخین جامعہ سے ملاقات کرکے ایک روحانی کیفیت اور ایمان میں مزید تازگی پیدا ہوئی ۔ مولانا ڈاکٹر سیف اللہ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ، مولانا مفتی سید شاہ ضیاء الدین نقشبندی نائب شیخ الجامعہ و مفتی جامعہ ، مولانا حافظ شبیر احمد یعقوبی شیخ التجوید جامعہ، مولانا حافظ اسماعیل ہاشمی، مولانا قاضی امتیاز احمد، مولانا حافظ سید احمد غوری نقشبندی ، مفتی سید واحد علی قادری،مولانا محمد نثار احمد قادری ، مولانا سید عبدالقادر قادری وحید پاشاہ ، مولانا سید شاہ عبدالمہیمن قادری لاابالی الجیلانی سجاد پاشاہ قادری ، مولانا حسین خان ابوالعلائی چنو میاں ، قاضی صوفی شاہ محمد عبدالقادر قادری چشتی ثانی، جناب محمد عقیل وغیرہ موجود تھے۔M/b