ملی ،مذہبی اور سیاسی برادری میں بے چینی
حیدرآباد۔8۔ستمبر۔(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ کی اراضی کے ہراج کے معاملہ میں مجلس اتحادالمسلمین کی خاموشی اور ہراج کے باوجود کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہ کئے جانے پر اب مختلف گوشوں سے سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ رائے درگ سروے نمبر 83/1 میں تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی نگرانی میں 10ایکڑ سے زائد اراضی کے ہراج کے ذریعہ 2833 کروڑ کے حصول کے باوجود مسلم قیادت کی جانب سے کسی بھی طرح کا اعتراض نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔جامعہ نظامیہ کے تحت موجود510.35 ایکڑ اراضی میں 2 پلاٹس کی فروخت کی تیاریوں کے انکشاف سے ان کے ہراج تک کی تمام تفصیلات کومنظر عام پر لائے جانے کے باوجود ریاستی حکومت اور مجلس اتحادالمسلمین کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ اب جبکہ ریاستی اسمبلی کا مانسون سیشن جاری ہے تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر کس بنیاد پر حکومت کی جانب سے موقوفہ اراضی کا بغیر کسی مذاکرات کے ہراج کیا جا رہاہے اور اسے خانگی کمپنیوں کے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جامعہ نظامیہ کے تحت موجود وقف جائیداد جس کا ’’منتخب‘‘ اور دیگر تمام تفصیلات وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں علاوہ ازیں مذکورہ جائیداد کو UMEED پورٹل پر درج کرنے کے بعد بعد تحقیق و تنقیح مصدقہ وقف جائیداد قرار دیا جاچکا ہے اس کے باوجود اس جائیداد کے تحفظ کے سلسلہ میں مسلم منتخبہ نمائندوں کی خاموشی کو ’ہراج‘ کی تمام معاملتوں سے واقفیت پرمحمول کیا جانے لگا ہے۔ جامعہ نظامیہ کی وقف اراضی کے معاملہ میں اختیار کردہ حکومت کے موقف سے ریاست بھر کے مسلمانوں میں تشویش پائی جانے لگی ہے اور تلنگانہ کے بیشتر تمام اضلاع میں ملی ‘ مذہبی اور سیاسی کارکنوں میں بے چینی پائی جارہی ہے اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے مسلمان جامعہ نظامیہ کی اراضی کے تحفظ کے لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ تمام سیاسی ‘ مذہبی ‘ ملی و سماجی تنظیموں کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے لگے ہیں اس کے باوجود مجلس اتحادالمسلمین جنوبی ہند کی عظیم دینی درسگاہ ’’جامعہ نظامیہ ‘‘ کی اراضی کے معاملہ میں لب کشائی سے گریز کررہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مذکورہ اراضی کے سلسلہ میں اب تک ہونے والی تمام معاملتوں کو منسوخ کروانے کے سلسلہ میں عدالت میں متعدد مقدمات دائر کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور جلد ہی اس سلسلہ میں حکمت عملی تیار کرتے ہوئے متعدد مقدمات کے ادخال کے ذریعہ جامعہ نظامیہ کی اس جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنانے کی پہل شروع کی جائے گی علاوہ ازیں ’عوامی تحریک‘ اور بڑے پیمانے پر احتجاج کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ 1.25 لاکھ کروڑ مالیت کی اس اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔3/i/k