جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی ہونے کا ایڈوکیٹ جنرل کا اعتراف

   

وقف بورڈ یا جامعہ نظامیہ کے سواء کسی اور کی درخواست پر سماعت نہ کرنے پر زور
اسٹینڈنگ کونسل کے وکیل نے جوابی حلف نامہ کے لیے وقت طلب کیا ، ارباب جامعہ کے لیے زرین موقع
حیدرآباد۔13۔اگسٹ(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے معاملہ میں دائر کردہ رٹ درخواست میں حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ جنرل مسٹر سدرشن ریڈی نے عدالت میں درخواست گذار کے استحقاق کو چیالنج کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ مذکورہ جائیداد جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ جائیداد ہے اور اس معاملہ میں عدالت کو سوائے وقف بورڈ یا جامعہ نظامیہ کے کسی اور کی درخواست کی سماعت نہیں کرنی چاہئے ۔ایڈوکیٹ جنرل کے زبانی اعتراف اور وقف بورڈ کے جواب کے متعلق توجہ دہانی کے ساتھ ہی وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل جناب سید نجم الحسن باقری ایڈوکیٹ نے عدالت سے وقت طلب کرتے ہوئے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ وہ جلد ہی تلنگانہ وقف بورڈ سے جوابی حلف نامہ حاصل کرتے ہوئے عدالت میں داخل کریں گے۔ جناب سید شاہ اسمعیل قادری نے جامعہ نظامیہ کی اراضی کے تحفظ اور اس جائیداد کے ہراج کے سلسلہ میں جاری تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ ہراج کو روکنے کے لئے داخل درخواست میں ہراج کو غیر قانونی اور جبری قرار دیتے ہوئے اسے فوری منسوخ کرنے کی خواہش کی ۔ جسٹس ناگیش بھیماپاکا کی بنچ پر داخل کی گئی رٹ درخواست نمبر 26633/2026 کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل مسٹر سدرشن ریڈی نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ درخواست گذار کو یہ درخواست داخل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کیونکہ مذکورہ جائیداد وقف بورڈ کی ہے تو ایسی صورت میں وقف بورڈ اگر چاہے تو یہ درخواست داخل کرسکتا ہے ۔ جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے مقدمہ کی آئندہ سماعت17 اگسٹ کو مقرر کرتے ہوئے اسٹینڈنگ کونسل وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ بورڈ کی جانب سے حلف نامہ داخل کریں۔ درخواست گذار نے مقدمہ میں پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال حکومت تلنگانہ ‘ ضلع کلکٹر رنگاریڈی ‘ تحصیلدار شیرلنگم پلی ‘ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن ‘ سروے کمشنر اینڈ ڈائریکٹر حکومت تلنگانہ ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کے علاوہ جامعہ نظامیہ کو فریق بناتے ہوئے یہ مقدمہ دائر کیا ہے جس میں وقف بورڈ کی جانب سے جوابی حلف نامہ کے ادخال کے لئے وقت طلب کیا گیا ۔17 اگسٹ کو مذکورہ جائیداد کے ہراج کے سلسلہ میں عدالت کو واقف کروائے جانے پر معزز جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے واضح کیا کہ وہ فی الحال ہراج کو روکنے کیلئے کوئی احکام جاری نہیں کر رہے ہیں لیکن اگر ہراج ہوتا ہے تو ایسی صورت میں برخواست کرنے کا بھی اختیار رکھتے ہیں ۔ ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی کے اعتراف کے بعد بھی اگر تلنگانہ وقف بورڈ اس معاملہ میں حرکت میں آتے ہوئے اقدامات نہیں کرتا ہے اور جامعہ نظامیہ کے انتظامیہ کے ساتھ فوری مذاکرات کے ذریعہ قانونی کاروائیوں کا آغاز نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ تلنگانہ وقف بورڈ اپنی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے خود سنجیدہ نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار اپنے اسٹینڈنگ کونسل کو تفصیلات فراہم کرنے کے معاملہ میں اب تک بھی ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ارباب جامعہ کیلئے عدالت میں دائر کردہ مقدمہ ایک سنہری موقع ہے جہاں وہ اپنے وکیل کے ذریعہ مذکورہ جائیداد پر اپنے ادعا کو پیش کرتے ہوئے لاکھوں کروڑ کی مالیتی اراضی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔3/m/b