میں ہندو اور مسلمان پر یقین نہیں رکھتا
دہلی فسادات میں 52 ہندوستانی مارے گئے، لوک سبھا میں امیت شاہ کا بیان
خاطیوں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا
فساد منظم سازش کا نتیجہ : وزیرداخلہ
فساد پر قابو پانے میں حکومت ناکام : اپوزیشن کی تنقید
لوک سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن ارکان کی بحث
نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا کو بتایا کہ شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فساد کے دوران 52 ہندوستانیوں نے اپنی زندگیاں گنوا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندو اور مسلمان کے نظریہ پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ صرف ہندوستانیوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ میں یہ ہرگز نہیں مانتا کہ فسادات میں ہندو اور مسلمان مرے ہیں بلکہ یہ ہندوستانی تھے جنہوں نے اپنی زندگی گنوا دی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں 526 ہندوستانی زخمی ہوئے جبکہ 371 ہندوستانیوں کے دکانات جلادیئے گئے اور 142 ہندوستانی گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ وزیرداخلہ نے لوک سبھا میں بحث کے دوران کہا کہ دہلی فسادات کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان کے مذہب، ذات یا پارٹی سے بالاتر ہوکر انہیں سزاء دی جائے گی۔ جو کوئی فساد میں ملوث پایا گیا اسے سخت سزاء ہوگی۔ لوک سبھامیں بحث کا جواب دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ بادی النظر میں یہ فساد منظم سازش کا حصہ تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ فساد روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا لیکن بی جے پی نے اس فساد کے پیچھے بڑی سازش قرار دیا اور صورتحال کو بگاڑنے کیلئے مخالف سی اے اے احتجاجوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پارلیمنٹ میںحالیہ فرقہ وارانہ فسادات پر بحث کی گئی۔ حکمراں پارٹی بی جے پی کے ارکان اور اپوزیشن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات عائدکئے گئے۔ حکومت کی دفاع کرتے ہوئے بی جے پی ارکان نے کہا کہ وزیرداخلہ اور متعلقہ اتھاریٹیوں نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کئے۔ دہلی کے بعض علاقوں میں لا اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس لیڈر لوک سبھا ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ دہلی پولیس کے پاس مؤثر ہتھیار ہونے کے باوجود تین دن تک یہ تشدد جاری رہا۔ حیرت کی بات ہیکہ وزیرداخلہ امیت شاہ کو بھی اب تک فساد زدہ علاقوں میں جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کا روم کے نیرو سے تقابل کیااور کہا کہ ’’جب روم جل رہا تھا نیرو بانسری بجارہا تھا‘‘۔ جب دہلی میں فساد بھڑک اٹھا عین اس وقت وزیراعظم مودی احمدآباد میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی میزبانی میں مصروف تھے۔ کانگریس لیڈر چودھری نے مزید کہا کہ فسادات کے بعد بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فساد میں ہندوؤں کی عید ہوئی ہے اور بعض نے کہا کہ تشدد میں مسلمانوں کی جیت ہوئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہیکہ یہاں انسانیت کی شکست ہوئی۔ چودھری نے امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جس پر ترنمول کانگریس کے سگوتا رائے، سی پی آئی ایم کے اے ایم عارف اور آر ایس پی کے این کے رامچندرن نے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مجلس کے ایم پی اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ ہندوتوا نفرت کی سونامی ہے۔ انہوں نے تشدد کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کامطالبہ کیا۔ ان کے پاس ریمارک پر بی جے پی قائدین نے احتجاج بھی کیا۔ دانش علی بہوجن سماج پارٹی نے بی جے پی لیڈر میناکشی لیکھی کے ریمارکس کو ایوان کے ریکارڈ سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔
