برلن : جرمنی اب اپنے آبائی ممالک میں جبر کے خطرے سے دوچار ہم جنس پسند افراد کی پناہ کی درخواستوں کا جائزہ لے گا، چاہے ایسے افراد اپنی شناخت اور جنسی رجحان ظاہر کرتے ہوں یا مخفی رکھتے ہوں۔ جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا ہے کہ جرمنی ایل جی بی ٹی کیو افراد کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کے لیے ہفتہ کے روز سے نئے قوانین نافذ کرے گا۔ فیزر نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ کویئر پناہ گزینوں کو بہتر طریقہ سے تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہیں اور کسی کو بھی ’خطرناک دوہری زندگی گزارنے پر مجبور‘ نہیں ہونا چاہیے۔ کویئر کی اصطلاح مجموعی طور پر ایل جی بی ٹی پلس افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن میں ہم جنس پسند، اور ٹرانس جینڈر افراد سمیت مختلف صنفی شناخت رکھنے والے تمام افراد شامل ہوتے ہیں۔ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ درخواست گزار اپنی صنفی شناخت اور جنسی رجحان ظاہر کرتے ہیں یا انہیں مخفی رکھتے ہیں، ان کی پناہ کی درخواستوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں۔