جرمنی کو ’ہولو کاسٹ‘ بھول کر آگے بڑھنےایلون مسک کے مشور ہ پر نیا تنازعہ

   

برلن: پولینڈ میں آشوٹز کی آزادی کی 80ویں سالگرہ منانے کیلئے زندہ بچ جانے والے افراد اور عالمی رہنماؤں کے اجتماع کے انعقاد کے دوران جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی نے ہولوکاسٹ کی یاد منانے کی ملکی روایت کو پیچھے دھکیل دیا، اس گروپ کو امریکی ارب پتی ایلون مسک کی حمایت حاصل ہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے عہدیدار ایلون مسک نے اے ایف ڈی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے خیال میں ماضی کے جرائم (ہولوکاسٹ) پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور ہمیں اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے جرمنی میں 23 فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں امیگریشن مخالف جماعت کے حامیوں سے کہا کہ بچوں کو اپنے دادا، دادی کے گناہوں کا ‘مجرم’ نہیں ہونا چاہیے ۔مسک کا یہ بیان نازیوں کے زیرقبضہ پولینڈ میں قتل عام کے کیمپ کی آزادی کے 80 سال مکمل ہونے اور ہولوکاسٹ کے ’تہذیبی انہدام‘ کے بارے میں چانسلر اولف شولز کے بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ آشوٹز حراستی کیمپ، جسے اوسیویشم حراستی کیمپ بھی کہا جاتا ہے ، دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ کے دوران مقبوضہ پولینڈ 1939) میں جرمنی میں ضم) میں نازی جرمنی کے ذریعے چلائے جانے والے 40 سے زیادہ حراستی اور قتل عام کے کیمپوں کا ایک کمپلیکس تھا۔