مرکز پر ملک بھر میں 10 ہزار افراد کے فون ٹیاپ کروانے کا الزام ۔ کسی بھی تحقیقات کیلئے تیار رہنے کا اعلان
حیدرآباد۔/20 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ منو گوڑ کے ضمنی انتخاب کے علاوہ آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں ٹی آرایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی اور جنوبی ہند میں مسلسل تیسری مرتبہ چیف منسٹر بننے کا کے سی آر کو اعزاز حاصل ہوگا۔ کے ٹی آر نے کہاکہ منو گوڑ ضمنی انتخاب کے نتائج سے واضح ہوجائے گا کہ کس کی سیاسی طاقت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت پیگاسیس سافٹ ویر کے ذریعہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے ججس کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 10 ہزار اہم شخصیتوں کے ٹیلی فونس ٹیاپ کررہی ہے۔ کنٹراکٹ سے دولت بٹورنے کے راجگوپال رڈی نے اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوکر ضمنی انتخاب کی راہ ہموار کی ہے۔ حلقہ منو گوڑ میں جملہ2.40 لاکھ رائے دہندے ہیں، 99 فیصد یعنی 2.38 لاکھ رائے دہندے تلنگانہ حکومت کی کسی نہ کسی اسکیم سے استفادہ کررہے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں ووٹ مانگنے کا حق صرف ٹی آر ایس کو ہے اور ٹی آر ایس ہی کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت گذشتہ 8 سال سے تلنگانہ سے ناانصافی کررہی ہے۔ تلنگانہ کے ایک بھی آبپاشی پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا ذریعہ نہیں دیا گیا مگر مرکزی حکومت نے کالیشورم پراجکٹ کے ڈی پی آر کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کے ٹی آر نے شراب اسکام کے علاوہ کسی اور اسکام کی تحقیقات کیلئے تیار رہنے کا دعویٰ کیا۔ اگر ہم نے یا ٹی آر ایس حکومت نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ کیا بی جے پی میں تمام قائدین صاف ستھرے ہیں ، بی جے پی کے کسی بھی قائد کے خلاف ای ڈی، سی بی آئی یا انکم ٹیکس کے دھاوے کیوں نہیں کرتی۔ بی جے پی سے انہوں نے استفسار کیا کہ سابق ارکان پارلیمنٹ سجنا چودھری، سی ایم رمیش کے خلاف کیس کا کیا ہوا۔ ٹی آر ایس ورکنگ صدر نے کہا کہ 2023 کے انتخابات میں ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے نئی تاریخ بنائے گی۔ جنوبی ہند میں این ٹی آر، کروناندھی ، نمبودری پد، رام کرشنا ہیگڈے، چندرا بابو نائیڈو جیسے قائدین کو ہیٹ ٹرک کا اعزاز نہیں ملا ا۔ یہ اعزاز حاصل کرکے کے سی آر نئی تاریخ بنائیں گے۔ ن