اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ جنگ ایران پر مسلط ہوئی،کسی نئے معاہدے کیلئے بین الاقوامی قانونی دائرہ کار اہم:پزشکیان
نیویارک ۔ 25 ستمبر (ایجنسیز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ جاری رکھنا نہیں چاہتا اور تنازع ختم کرنے کا فیصلہ اب امریکہ کو کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کا خواہاں نہیں تھا، تاہم ان کے بقول اسرائیل کی کارروائیوں اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں یہ جنگ ایران پر مسلط ہوئی۔ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ”ہم جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتے، امریکہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسے ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔” انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ تہران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے تیار ہے۔پزشکیان نے گزشتہ معاہدے کے چند ہی عرصے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچ چکے تھے تو تقریباً دو ہفتے بعد اسے کیوں ختم کردیا گیا۔ان کے مطابق ایران مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کیلئے اب بھی تیار ہے، تاہم کسی نئے معاہدے کیلئے وہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار کو اہم قرار دیتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو ایران اس کیلئے تیار ہے، جبکہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کیلئے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیانات میں ایک طرف معاہدے کے امکان کا ذکر کیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی بات کی ہے۔ قبل ز یں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کو دو ٹوک پیغام میں کہا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ایرانی صدر نے نیویارک میں ایرانی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ جسے تباہ کرنا چاہتا ہے اس پر دہشت گردی کا الزام لگا دیتا ہے، ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ اپنے دفاع میں کارروائیاں کیں، اس کیلئے کسی سے اجازت کی ضرروت نہیں۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں سلامتی کیلئے شراکت چاہتا ہے، ہمسایوں کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی آمیز تقریر سُننے کے بعد انہوں نے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف ایران اور امریکہ مذاکرات کے حوالے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے پر غور کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق کئی ماہ کی جنگ کے بعد امریکہ اورایران مرحلہ وار معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈیل کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولے گا اورامریکہ کی جانب سے ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔ ایران محصولات میں لچک کا اشارہ دے رہا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کے معاملے پر نہیں۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تعطل ختم کرنے کا سب سے قابلِ عمل طریقہ مرحلہ وار معاہدہ ہوسکتا ہے۔امریکہ کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس کا کہناہے کہ مڈٹرم الیکشنز سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہونے کا امکان30 فیصد ہے۔