جنگ کے چیلنجز سے نمٹنے فوج کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی تیاری

   

تینوں افواج کے درمیان ’تال میل بڑھانے‘ ڈرون اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا زور

نئی دہلی، 3نومبر (یواین آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہیکہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فوج کو مسلسل مضبوط اور اہل بنانا ضروری ہے ۔ اسی لیے جنگ کے بدلتے ہوئے طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جدید ٹیکنالوجی، نئے ہتھیاروں اور بہتر جنگی صلاحیتوں سے لیس کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں افواج کے درمیان تال میل بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈرون، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے ۔ وزیر دفاع نے منگل کو جیسلمیر میں وزارت دفاع کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مسلح افواج کی جدید کاری، جنگ کے بدلتے حالات اور مستقبل کی فوجی ضروریات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس میں جدید ہتھیاروں اور فوجی نظاموں کو فوج میں شامل کرنے ، تینوں افواج کے درمیان مشترکہ منصوبہ بندی اور مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔ سنگھ نے کہا کہ جدید جنگ میں ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ ایسے میں فوج کو نئی ٹیکنالوجیز کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم کی جانب سے تیار کیے جا رہے جدید ہتھیاروں، میزائلوں اور فوجی نظام کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ ہی دفاعی شعبے میں نجی کمپنیوں، چھوٹی صنعتوں، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کی شراکت داری بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ فوج کی طاقت کا تعین صرف ہتھیاروں اور مالی وسائل سے نہیں ہوتا، بلکہ جوانوں کی صلاحیت اور تیاری بھی اتنی ہی اہم ہے ۔ جنگ کے بدلتے حالات کے مطابق تینوں افواج اپنی تنظیم اور کام کرنے کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی فوج کی اسنی، بھیرو اور شکتی بان پلاٹون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ فوجی ضروریات پوری کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ سنگھ نے کہا کہ مالی سال 2026-27 میں دفاعی بجٹ بڑھا کر ریکارڈ 7.85 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے ۔ اس میں 2.19 لاکھ کروڑ روپے جدید فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی خریداری کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی ضروریات کے مطابق بجٹ کا مناسب استعمال اور اہم فوجی صلاحیتوں کو ترجیح دینا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دفاعی پیداوار مالی سال 2014-15 کے 46,429 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے ۔
وہیں، دفاعی برآمدات 2014 میں 2,000 کروڑ روپے سے کم تھیں، جو بڑھ کر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ حکومت کا ہدف 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات کو 50 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانا ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ خود انحصاری کیلئے ملک میں ہی ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار ضروری ہے ۔ اس سے غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم ہوگا اور قومی سلامتی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے دفاعی شعبے میں تحقیق، مقامی ٹیکنالوجی اور نجی صنعتوں کی شراکت داری کو مسلسل فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ تبادلۂ خیال کے دوران اہم فوجی صلاحیتوں کو ترجیح دینے ، دفاعی خریداری اور ترقی کے عمل کو بہتر بنانے اور مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔ جدید کاری کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے اور مقررہ اہداف کے مطابق کام مکمل کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔