جنیوا میں ہندوستان کے ترقیاتی ماڈل کی ستائش

   

جنیوا : جنیوا میں 52 ویں یواین ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں مختلف این جی اوز کی جانب سے ہندوستان کے تعلیمی ماڈل کی نہ صرف زبردست ستائش کی گئی بلکہ اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک سے یہ خواہش بھی کی گئی کہ وہ ہندوستان کے اسی ماڈل کی تقلید کریں۔ اس موقع پر ایکو فان سے تعلق رکھنے والے سائی سمپت نے اپنے خطاب میں روہنی نامی ایک دلت لڑکی کا تذکرہ کیا جو جنیوا میں زیر تعلیم ہے اور جسے حکومت ہند کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی امداد بھی دی گئی ہے۔ لہذا میرے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے 200 ملین دلتوں کی آواز بن گیا ہوں اور ان کی نمائندگی کررہا ہوں۔ سمپت نے کہا کہ وہ حکومت ہند کے بیحد شکر گذار ہیں کہ انہیں جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کے لئے اسکالرشپ دی گئی۔ ہندوستانی آئین کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت ایک قبائیلی خاتون درویدی مرمو ہندوستان کی صدر ہیں اور ادبی سی سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں۔