’’جو رام کے نہیں، وہ عوام کے کیا ہوں گے؟‘‘

   

رام مندرعطیہ چوری معاملہ پر ڈمپل یادو کا شدید رد عمل
لکھنؤ۔28 ؍جون ( ایجنسیز )اتر پردیش کے مین پوری حلقہ سے رکن پارلیمنٹ اورسماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو نے رام مندر کے عطیات کی چوری کے معاملے پربی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی تکبر میں ڈوبی ہوئی ہے اور آئندہ انتخابات میں سماج وادی پارٹی مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ڈمپل یادو نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی پارٹی نے ایودھیا میں رام مندر کا مسئلہ سب سے پہلے اٹھایا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر کی تعمیر میں کروڑوں روپے کا گھپلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو رام کے نام کا سہارا لے کر اقتدار میں آنے تھے جب وہ انہیں کے نہیں ہوئے تو عام لوگوں کے کیا ہوں گے؟ انہوں نے رام مندر میں چڑھاوا یعنی عطیہ کی مبینہ چوری کے معاملے کو کروڑوں عقیدت مندوں کے عقیدے سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ چوری تقریباً 3 سال سے جاری ہے۔ ڈمپل یادو نے تعلیمی نظام پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے تقریباً 25 ہزار اسکولوں کو بند کردیا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ بچے تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے نیٹ پیپر لیک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں طلباء نے اپنی جان تک دے دی لیکن مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہیں دیا۔