جوابی بیاض کی جانچ ، مصنوعی ذہانت سے کرنے کی منصوبہ بندی

   

بیاضات کی تنقیح کے کام میں شفافیت کے لیے عصری طریقہ پر عمل کرنے ٹکنیکل ایجوکیشن بورڈ کا فیصلہ
حیدرآباد۔16ڈسمبر(سیاست نیوز) دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کو حاصل ہونے والی اہمیت کے دوران ریاست تلنگانہ میں اب طلبہ کے جوابی بیاضات کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اسٹیٹ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک سالہ ڈپلومہ کورس کے طلبہ کے جوابی بیاضات کی جانچ اس نئے طریقہ کار کے ذریعہ عمل میں لائی جائے تاکہ جوابی بیاضات کی تنقیح کے کام میں شفافیت پیدا ہو۔ ذرائع کے مطابق ایک سالہ ڈپلومہ کے طلبہ کے جوابی بیاضات میں ایسی کلید شامل کی جائے گی جس کی تنقیح مصنوعی ذہانت کے ذریعہ ممکن ہوسکے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ سوالنامہ اور جواب کو نظر میں رکھتے ہوئے ایسے کی ورڈ شامل کئے جائیں گے جن کے ذریعہ صحیح جوابات کی تنقیح ممکن ہوگی اور جوابی بیاضات میں موجود کلید اور کی ورڈس کے ذریعہ کمپیوٹر میں موجود آرٹیفیشل انٹلیجنس ساف وئیر کے ذریعہ جوابی بیاضات کی تنقیح کا عمل بہ آسانی مکمل کرلیا جائے گا۔ عہدیدارو ںکے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے جوابی بیاضات کی تنقیح کے عمل کے دوران جوابی بیاضات کو اسکیان کرتے ہوئے کمپیوٹر میں محفوظ کردیا جائے گا اور محفوظ کئے گئے جوابی بیاضات کی جانچ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ ہوجائے گی اور اس کے لئے روایتی انداز تنقیح اور اساتذہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور بورڈ اپنے طور پر بہ آسانی جوابی بیاضات کی تنقیح اور نشانات کی فراہمی بذریعہ مصنوعی ذہانت مکمل کرنے کا متحمل ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں منعقدہ اعلیٰ عہدیدارو ںکے اجلاس کے دوران میاتھس کے سوالات اور انہیں حل کرنے کے طریقۂ کار کے علاوہ انجنیئرنگ میں طلبہ کی جانب سے جوابی بیاضات پر اتارے جانے والے ڈیزائن کی جانچ کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کو بہتر سے بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ یہ بھی ممکن کیا جاسکے گا۔ ذرائع کے مطابق ایک سالہ ڈپلومہ کورسس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے جوابی بیاضات کی جانچ میں کامیابی اور مصنوعی ذہانت کو مزید بہتر و مستحکم بنائے جانے کے بعد دیگر جماعتوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے جوابی بیاضات کی جانچ کے سلسلہ میں جلد ہی اقدامات کئے جائیں گے ۔ جوابی بیاضات کی جانچ کیلئے عصری ٹکنالوجی کے استعمال کے سلسلہ میں عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف تنقیح کے وقت میں کٹوتی ہوگی بلکہ انسانی خدمات کے حصول میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔م