جون تا اگسٹ ملک میں کورونا کی لہر کے اندیشے

   

مریضوں کو شریک دواخانہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ مرکز سے ہدایات کی اجرائی کا امکان

حیدرآباد۔یکم۔مئی۔ (سیاست نیوز) ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد میں آئندہ ماہ اضافہ کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ بیشتر ریاستو ںمیں کورونا کی چوتھی لہر جون کے دوران شدت اختیار کرنا شروع کردے گی اور اگسٹ تک سلسلہ جاری رہے گا۔ جون تا اگسٹ اس لہر پر عہدیداروں اور ماہرین کا کہناہے کہ مرض کی شدت میں کوئی خاص اضافہ یا مریضوں کو شریک دواخانہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی لیکن ملک بھر میں 10 فیصد سے زائد ایسے شہری ہیں جو کہ کورونا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی لہر کے دوران جوصورتحال پیداہوئی تھی اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں ٹیکہ اندازی میں تیزی اور شدت پیدا کئے جانے کے سبب شہری وائرس کا مقابلہ کرنے کے متحمل ہوچکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے احتیاطی اقدامات کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں ۔ مرکزی حکومت 5یا7مئی کو محکمہ صحت اور دیگر محکمہ جات کا اجلاس منعقد کرکے جائزہ لے گی کہ کورونا کی چوتھی لہر کی صورت میں کیا اقدامات کئے جانے چاہئے۔ سائنسدانوں کے مطابق اومی کرون کی نئی قسم کے متاثرین پر طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور سال گذشتہ اومی کرون کا شکار مریضوں کو جن منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کا لیا جا رہاہے ۔ ماہ جون کے دوران تلنگانہ میں بھی کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور تلنگانہ میں بھی مثبت مریضوں کی شرح میں اضافہ ہو رہاہے۔ کورونا وباء کے آغاز سے ہی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ایجنسیوں و اداروں کا کہناہے کہ چوتھی لہر کے دوران بھی مرض میں کوئی شدت یا شریک دواخانہ کرنے کی نوبت کے امکانات نہیں ہیں لیکن وباء کو قابو میں رکھنے ان اداروں کی جانب سے حکومتوں کو تجاویز میں احتیاطی اقدامات کو سخت کرنے اور سماجی فاصلہ اور ماسک کے لزوم کو یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جن ریاستو ںمیں ماسک کا لزوم عائد کیاجاچکاہے ان ریاستوں میں اس پر سختی کرنے کی ہدایات جاری کئے جانے کا امکان ہے۔ م