بی جے پی کی خاموشی معنیٰ خیز ، کانگریس دفتر کیلئے اراضی الاٹ کرنے ریونت ریڈی کا مطالبہ
حیدرآباد۔22۔مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے جی او 111 کی برخواستگی کو اراضی سے متعلق بڑے اسکام کا نتیجہ قرار دیا۔ کانگریس پارٹی جی او سے دستبرداری کے پس پردہ حقائق کا پتہ چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل دے گی ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے اطراف اراضیات پر تعمیرات کی اجازت دینے کیلئے جی او سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ اس فیصلہ کے پس پردہ اراضی اسکام ہے جس کا فائدہ کے سی آر اور کے ٹی آر کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلہ سے بارش کی صورت میں حیدرآباد میں سیلاب کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین کی مدد کیلئے کیا گیا فیصلہ عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر رئیل اسٹیٹ مافیا کی طرح کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سومیش کمار اور اروند کمار کے ذریعہ حکومت نے یہ کام کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ کانگریس قائدین کی کمیٹی جی او 111 کے تحت آنے والے دیہاتوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی رائے حاصل کرے گی۔ پارٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی جس کے بعد احتجاجی لائحہ عمل کا تعین ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ عام طور پر کسی بھی علاقہ کے ماسٹر پلان کی منظوری سے قبل مقامی افراد کی رائے حاصل کی جاتی ہے ۔ جی او111 کے تحت آنے والے 84 مواضعات کے ماسٹر پلان کی منظوری سے قبل عوامی سماعت نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ذخائر آب کے تحفظ کی ہدایت دی تھی لیکن کے سی آر حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جی او منسوخ کرتے ہوئے ایک لاکھ کروڑ کا اراضی اسکام کیا جارہا ہے۔ ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر کشن ریڈی اور بی جے پی قائدین کو چیلنج کیا گیا کہ اراضی اسکام کے خلاف تحقیقات کے لئے مرکزی اداروں سے شکایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی سیاس واپسی سے بالا تر ہوکر تحقیقاتی اداروں سے شکایت کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں پارٹیاں آپس میں مفاہمت کرچکی ہے۔ ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں کانگریس پارٹی آفس کے لئے اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس حکومت نے بی آر ایس آفس کیلئے بنجارہ ہلز میں اراضی الاٹ کی تھی ۔ گاندھی بھون کی عمارت ٹرسٹ کی ہے جس میں کانگریس پارٹی کرایہ دار کے طور پر ہے۔ گاندھی بھون سے متصل بھیم راؤ نگر بستی میں 5100 گز اراضی کانگریس آفس کیلئے الاٹ کی گئی تھی اور یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ کے سی آر حکومت نے 2016 ء میں مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے عدالت میں بتایا کہ کانگریس پارٹی کو اراضی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گنڈی پیٹ کے قریب بی آر ایس کے نام پر 11 ایکر قیمتی اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ انہوں نے ہاؤزنگ بورڈ کی اراضی کے بجائے کوئی اور متبادل اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس میں سینئر قائدین وی ہنمنت راؤ ، محمد علی شبیر ، ایم کودنڈا ریڈی ، انجن کمار یادو اور دیگر قائدین موجود تھے۔ر