جی ایس ٹی کے بغیر کاروبار اور بغیر بل کے تجارتی سرگرمیوں پر بھاری جرمانہ کا منصوبہ

   


سنٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹمس سے تلنگانہ کے تاجرین کی تفصیلات اکٹھا

حیدرآباد۔6۔نومبر۔(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں جی ایس ٹی کے بغیر کاروبار کرنے والے تجارتی اداروں کے خلاف کاروائی اور بغیر بل کے تجارتی سرگرمیاں انجام دینے والوں پر بھارتی جرمانے عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔جی ایس ٹی کے بغیر کاروبار کرنے والے تاجرین جو شہر کے رہائشی علاقوں سے اپنے کاروبار چلا رہے ہیں ان کے خلاف جس ایس ٹی حکام نے کاروائی کا فیصلہ کیاہے سنٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹمس کے عہدیداروں نے ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کے ان تاجرین کا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروعکیا ہے جو محکمہ لیبر میں 1سے زائد ملازمین کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور ان کے تجارتی ادارہ جات جی ایس ٹی کے زمرہ میں شامل ہیں۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے تلنگانہ میں جن تاجرین نے جی ایس ٹی نمبر حاصل کیا ہے ان کی جانب سے بھی خرید و فروخت کے بل جاری نہ کئے جانے کے خلاف جاری مہم کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کئی تجارتی اداروں نے جو جی ایس ٹی زمرہ میں شامل ہیں وہ اب تک جی ایس ٹی میں اندراج نہیں کروائے ہیں اور بغیر جی ایس ٹی کے اندراج کے تجارتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ تجارتی برادری کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی نمبر کے حصول میں انہیں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن جی ایس ٹی کے تختۂکے ادخال میں ہونے والی دشواریوں کے سبب وہ جی ایس ٹی میں اندراج نہیں کروا رہے ہیں۔ پرانے شہر کی ہوٹلوں اور دیگر تجارتی ادارے جو شہر کے نامورادارو ں میں شامل ہیں ان اداروں کی جانب سے جی ایس ٹی نمبر حاصل نہ کئے جانے کی اطلاعات پر خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ کمرشیل ٹیکس کے عہددیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد کے تجارتی علاقوںبیگم بازار‘ نامپلی ‘ کوٹھی ‘ ونستھلی پورم‘ ایل بی نگر‘ امیر پیٹ‘ چارمینار کے علاوہ دیگر مقامات پر تجارتی اداروں کی تعداد اور جی ایس ٹی نمبر حاصل کرنے والوںکی تعداد میں بھاری فرق کے پیش نظر اس مہم کو شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اس مہم کے دوران جی ایس ٹی نمبر حاصل کرنے سے گریز کرنے والوں کے علاوہ جی ایس ٹی نمبر رکھتے ہوئے صفر فروخت کے ریکارڈ پیش کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور اس کاروائی کے دوران تاجرین میں ٹیکس ادائیگی کے فوائد کے متعلق بھی شعور اجاگر کیا جائے گا۔بتایاجاتاہے کہجی ایس ٹی عہدیداروں نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے تجارتی لائسنس حاصل کرنے والوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا ہے تاکہ شہر میں رجسٹرڈ تجارتی اداروں کی تعداد اور ان کے کاروبار کی نوعیت کا پتہ چلایا جاسکے۔ ابتدائی مہم کے دوران کمرشیل ٹیکس کے عہدیدار ٹرانسپورٹ‘ اجناس‘ ڈبہ بند اشیائے تغذیہ اور ہوٹل و ریستوراں کے کاروبار کا جائزہ لیں گے اور بعد ازاں دیگر تجارتی اداروں کے جی ایس ٹی کا جائزہ لیا جائے گا۔بتایاجاتا ہے جی ایس ٹی میں کی جانے والی دھاندلیوں کی شکایات موصول ہونے کے بعد تیار کئے گئے منصوبہ کے دوران عہدیداروں نے تاجرین میں شعور بیداری مہم بھی چلانے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔م