حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ای بائیکس میں آگ لگنے اور بیاٹری پھٹ پڑنے کے واقعات کے باوجود جس میں گاڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں ۔ ریاست تلنگانہ میں الیکٹرک گاڑیوں کو استعمال کرنے میں قابل لحاظ اضافہ ہورہا ہے اور الیکٹرک گاڑیاں جلد ہی 50,000 کے نشانہ تک پہنچ جائیں گی ۔ ابتدا میں ماہرین نے الیکٹرک گاڑیوں کی سیفٹی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا اور یہ پیش قیاسی کی تھی کہ لوگ ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے دھماکہ سے پھٹ پڑنے کے مختلف واقعات کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کو خریدنے میں پس و پیش کریں گے ۔ تاہم پٹرول کی قیمتوں میں ہوئے اضافہ کی وجہ حیدرآباد میں وہیکل یوزرس بالخصوص ٹو وہیلر اونرس نے بتدریج ای بائیکس کا استعمال شروع کیا ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ رینیویبل انرجی ڈیولپمنٹ کارپوریشن (TSREDCO) کے مطابق ، جو ریاستی حکومت کی ای وی پالیسی کے لیے نوڈل ایجنسی ہے گذشتہ سال الیکٹرک ٹو وہیلرس کی بہت زیادہ مانگ تھی ۔ حتی کہ الیکٹرک کاریں بھی مقبول ہوئی ہیں اور ریاست میں 10 ہزار ای کارس کے نشانے کے منجملہ 8 ہزار کارس استعمال میں آچکی ہیں ۔ اس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر این جانئیا نے تسلیم کیا کہ ریاست میں بالخصوص حیدرآباد میں الیکٹرک گاڑیوں میں اضافہ ہوا ہے اور کہا کہ ریاست میں ای وی انفراسٹرکچر کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ اب تک 150 چارجنگ اسٹیشنس قائم کئے گئے ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر ماہ اضافی پانچ تا چھ چارجنگ اسٹیشنس کا آغاز کیا جارہا ہے ‘ ۔ الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کے رجحان میں اضافہ کو تلنگانہ الیکٹرک وہیکل اینڈ انرجی اسٹوریج پالیسی 2020-2030 سے منسوب کیا جاسکتا ہے جسے الیکٹرک گاڑیوں کو تیزی کے ساتھ اپنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے ۔ اس پالیسی کے تحت ریاستی حکومت ریاست میں خریدی اور رجسٹریشن کے پہلے دو لاکھ الیکٹرک ٹو وہیلرس اور 500 الیکٹرک کارس کے لیے روڈ ٹیکس اور رجسٹریشن فیس سے صد فیصد استثنیٰ کی پیشکش کرتی ہے ۔۔