حکومت ،ماؤسٹوں سے امن مذاکرات کریں، غذا میں زہر دینے کا الزام
حیدرآباد ۔5۔ڈسمبر (سیاست نیوز) انسانی حقوق کے جہد کار پروفیسر ہرگوپال نے تلنگانہ میں حالیہ پولیس انکاؤنٹرس کی ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد انکاؤنٹر کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ پروفیسر ہرگوپال کے علاوہ سیول لبرٹیز کے قائدین نے حال ہی میں ملگ ضلع کے ایٹورو ناگارم میں پیش آئے انکاؤنٹر کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں پولیس انکا ؤنٹرس کے واقعات پر عوام کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد انکاؤنٹرس کو روک دیا گیا ۔ ملگ ضلع کے حالیہ انکاؤنٹر پر عوام کو اپنا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے ۔ پروفیسر ہرگوپال نے کہا کہ فرضی انکاؤنٹرس کے ذریعہ ماوسٹوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملگ ضلع میں انکاؤنٹر کے مہلوک ماؤسٹوں کی غذا میں زہریلی اشیاء کا استعمال کیا گیا اور بعد میں ماوسٹوں کو حراست میں لے کر انکاؤنٹر کردیا گیا ۔ پروفیسر ہرگوپال نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ماؤسٹوں سے امن مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ ریاست میں انکاؤنٹر جیسے واقعات پر کنٹرول کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملگ انکاؤنٹر کے مہلوکین کی نعشوں کی فارنسک ماہرین کے ذریعہ جانچ کرائی جائے تاکہ انکاؤنٹر کے اصلی ہونے کا پتہ چلایا جاسکے۔ واضح رہے کہ ملگ انکاؤنٹر کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے اور عدالت نے حکومت سے پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کی ہے۔ انکاؤنٹر کے بعد ملگ اور اطراف کے علاقوں میں پولیس چوکسی میں اضافہ کردیا گیا ۔ع