نئی دہلی، 20 فروری (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدہ کو ’ہتھیار ڈالنے ‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم قومی مفاد کو نظر انداز کر کے دباؤ میں اٹھایا گیا قدم ہے ۔ راہول گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وضاحت کی کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران جیو جِتسو (جاپانی مارشل آرٹ، جس میں حریف کی طاقت کو اسی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ) کی مثال کیوں دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے ہندوستانی کسانوں کی قربانی کیوں دی گئی؟ انہیں ہندوستان کی تیل درآمدات طے کرنے کی اجازت دے کر توانائی سلامتی سے سمجھوتہ کیوں کیا گیا؟ کسی باہمی وعدے کے بغیر ہر سال 100 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات بڑھانے پر رضامندی کیوں ظاہر کی گئی؟ کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کو ایک ’ڈیٹا کالونی‘ میں تبدیل کر سکتا ہے جہاں کسی ملک کا کنٹرول کسی غیر ملکی طاقت کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی ایسا معاہدہ کیوں قبول کریں گے جس میں ہندوستان زیادہ دے اور بدلے میں کم حاصل کرے ؟ راہول گاندھی نے اس صورت حال کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ’ہتھیار ڈالنے ‘ کی اصل وجہ وزیرِاعظم پر ڈالا گیا دباؤ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ آخر ایسا غیر متوازن معاہدہ کیوں تسلیم کیا گیا۔