حج کرایہ کا پیشگی اعلان کرنے حج کمیٹی آف انڈیا کو بمبئی ہائی کورٹ کی ہدایت

   

Ferty9 Clinic

امبارگیشن پوائنٹس کے کرایوں میں غیر معمولی فرق پر اظہار حیرت

حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ فریضہ حج کی ادائیگی سے متعلق فضائی کرایہ کے سلسلہ میں بمبئی ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ جسٹس رویندر وی بھوگے اور جسٹس وائی جی کھوبرا گاڑے پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حج کمیٹی آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ فضائی کرایہ کی رقم کا پیشگی اعلان کریں تاکہ عازمین حج کو اپنے قریبی امبارگیشن پوائنٹ کے انتخاب میں مدد ملے جہاں سے کم کرایہ میں روانگی ممکن ہے۔ عدالت نے اورنگ آباد اور ممبئی امبارگیشن پوائنٹس کے فضائی کرایہ میں غیر معمولی فرق پر حیرت کا اظہار کیا۔ ممبئی سے 53043 روپئے وصول کئے گئے جبکہ اورنگ آباد سے کرایہ 140938 روپئے مقرر کیا گیا تھا۔ عدالت نے حج کمیٹی آف انڈیا کو اورنگ آباد سے روانہ ہونے والے عازمین کے کرایہ کی رقم واپس کرنے کی ہدایت سے انکار کیا اور کہا کہ اعلان کردہ کرایہ میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ مراہٹواڑہ ریجن سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام نے فضائی کرایہ کے مسئلہ پر ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مہاراشٹرا میں 21 مئی سے پروازوں کا آغاز ہوا اور 15 مئی تک سفری خرچ کی دونوں اقساط حاصل کرلی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حج 2022 کے مقابلہ 2023 میں فضائی کرایہ میں کمی ممکن تھی۔ عازمین کی شکایت تھی کہ فضائی کرایہ کے اعلان کے بعد عازمین کو امبارگیشن پوائنٹ کے تعین کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے حج کمیٹی آف انڈیا کو ہدایت دی کہ وہ ایسے گائیڈ لائنس تیار کرے جس کے تحت عازمین حج اپنی پسند کے امبارگیشن پوائنٹ کا انتخاب کرسکیں۔ عدالت نے عازمین حج کی نمائندگی کا جائزہ لینے حج کمیٹی آف انڈیا کو اختیار دیا۔