حجاب ‘ سپریم کورٹ جج کے ریمارکس

   

Ferty9 Clinic

ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اُٹھا نقاب ساقی
ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
کرناٹک میں حجاب پر امتناع کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے آج علیحدہ علیحدہ فیصلہ سنادیا ۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پرا متناع کو برقرار رکھا ۔ حجاب پر حکومت کرناٹک نے امتناع عائد کیا تھا ۔ کرناٹک ہائیکورٹ نے اسے برقرار رکھا تھا ۔ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے آج اپنا منقسم فیصلہ سنادیا ۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے حکومت کرناٹک اور کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔ تاہم جسٹس سودھانشو دھولیہ نے حجاب پر امتناع کو برخواست کردیا ۔ حالانکہ یہ فیصلہ منقسم ہے اور اس سے کوئی قطعی رائے صادر نہیں ہوسکی ہے تاہم اس فیصلے میں جسٹس دھولیہ کے تاثرات اور ان کے ریمارکس انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جسٹس دھولیہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ جسٹس ہیمنت گپتا کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ملک کے دستور میں اقلیتوں کو جو یقین دہانی کروائی گئی ہے اس پر ملک کی اقلیتیں ملک کی اکثریت پر بھروسہ کرتی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ملک کی اقلیتیں ملک کے دستور ‘ قانون اور ملک کی اکثریت پر مکمل بھروسہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہیں رہتی بستی ہیں اور یہیں اپنی زندگی ختم بھی کردیتی ہیں تو انہیں دفن بھی اسی ملک کی مٹی میں کیا جاتا ہے ۔ جسٹس دھولیہ نے حجاب کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں ڈسیپلن ہو تاہم ڈسیپلن تعلیم کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے ۔ اس حقیت کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا لڑکوں کے تعلیم حاصل کرنے سے مشکل ہوتا ہے ۔ ملک کے کئی حصوں میں لڑکیوں کو تعلیم کی بجائے گھر کے کام کاج میں زیادہ جھونکا جاتا ہے ۔ انہیں تعلیم حاصل کرنے میں مشکل ہوتی ہے ۔ جسٹس دھولیہ کے یہ ریمارکس انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ صبح لڑکیاں اپنی پیٹھ پر اسکولی بیاگ لگائے ہوئے جب تعلیمی ادارہ کی سمت جاتی ہیں تو یہ منظر انتہائی خوبصورت ہوتا ہے ۔ یہی لڑکیاں ہماری امید ہیں اور ہمارا مستقبل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تعلیمی شعبہ میں ہمارے ملک کی لڑکیاں لڑکوں سے بہت آگے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا انتہائی دشوار گذار مرحلہ ہے ۔
جسٹس دھولیہ نے کہا کہ کیا جمہوریت میں حجاب کی اجازت طلب کرنا ممکن نہیںہے ؟ ان کے خیال میں حجاب کسی بھی لڑکی کی پسند کا مسئلہ ہے ۔ اس سے زیادہ یا اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ یہ ریمارک انتہائی اہمیت کاحامل کہا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی لڑکی کو حجاب استعمال کرنے کیلئے کوئی دوسرا مجبور نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی مرضی سے اور اپنے تحفظ کیلئے حجاب کا استعمال کرتی ہے ۔ گذشتہ کچھ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حجاب صرف مسلم لڑکیوں یا خواتین تک محدود نہیں رہ گیا ہے ۔ ہماری غیر مسلم بہنیں اور بیٹیاں بھی کسی نہ کسی وجہ سے اپنے چہرے کو ڈھکنے کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ یہ ان کی اپنی پسند اور یہ ان کی اپنی مرضی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ذہنی پراگندگی میں اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ آزاد خیال اور مغربی تہذیب کی دلدادہ لڑکیاں اور خواتین جب تنگ لباس پر تنقید کا نشانہ بنتی ہیں تو وہ یہ عذر پیش کرتی ہیں کہ ان کا جسم ان کی مرضی ۔ وہ چاہے جس طرح کا لباس استعمال کریں یہ ان کی اپنی مرضی ہے ۔ اسی طرح حجاب جو سماجی برائیوں کی روک تھام میں اہم رول اد اکرتا ہے ‘ اس سے لڑکیوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ ان میں طمانیت پیدا ہوتی ہے تو اس پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں اور اسے ایک مذہب سے جوڑنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے ۔ حجاب کا استعمال سماج میں برائیوں کی روک تھام میں معاون ہوتا ہے اس کے باوجود اس پر اعتراضات کرنا ناقابل فہم ہی کہا جاسکتا ہے جبکہ حجاب لڑکیوں کی اپنی مرضی کا مسئلہ ہے ۔
اب جبکہ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حجاب پر منقسم رائے کا اظہار کیا ہے تو شائد یہ مسئلہ اب کسی دستوری بنچ سے یا کسی بڑی بنچ سے رجوع کیا جائیگا ۔ حجاب کا دفاع کرنے والے فریقین کیلئے اور درخواست گذاروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلہ پر موثر پیروی عدالت میں کریں۔ عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے کہ انہیں حجاب استعمال کرنے سے روکنے کا فیصلہ غلط ہے ۔ یہ ان کی پرائیویسی میں مداخلت ہے ۔ یہ ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے ۔ سپریم کورٹ میں موثر پیروی اور بہتر نمائندگی کے ذریعہ ہی حجاب مسئلہ پر کوئی قطعی رائے حاصل کی جاسکتی ہے اور اسی کے ذریعہ اس مسئلہ کی یکسوئی ہوسکتی ہے ۔